سوٹ کے بعد اب شال پر ہنگامہ

،تصویر کا ذریعہPIB
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے متنازع سوٹ کے بعد اب ان کی شال پر ہنگامہ برپا ہے۔
اتوار کو دن بھر سوشل میڈیا پر اس بات پر بحث ہوتی رہی کہ نریندر مودی نے جو شال پیرس پہنچنے پر اپنے شانے پر ڈال رکھی تھی کیا وہ واقعی مشہور غیر ملکی برانڈ لوئی ویتان کی ہے؟
خیال رہے کہ بھارتی وزیراعظم ان دنوں یورپی ممالک فرانس، جرمنی اور کینیڈا کے دورے پر ہیں۔
اس مباحثے کو کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے ہوا دی تھی۔
کھیڑا نے گذشتہ دنوں ٹویٹ کیا: ’لوئي ویتان کی شال اوڑھ کر جناب مودی فرانس میں اپنے ’میک ان انڈیا‘ مہم کی زوردار تشہیر کر رہے ہیں۔‘
پون کھیڑا کے اس طنز کے بعد ٹی وی صحافی ساگریكا گھوش نے بھی ٹویٹ کیا۔ انہوں نے لکھا: ’وزیر اعظم نے پیرس میں لوئي ویتاں کی شال اوڑھی، میرے خیال سے وہاں بھارتی ہینڈلوم زیادہ بہتر ہوتا!‘

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن اس پوری بحث میں دلچسپ موڑ اس وقت آیا جبRakesh_lv نام کے ٹوئیٹر ہینڈل سے مبینہ لوئی ویتان کو مودی کی تصویر ٹویٹ کر کے یہ پوچھا کہ کیا وہ ایسی شال خریدنا چاہتے ہیں اور کیا لوئی ویتان ایسی شال بناتا ہے؟
لوئی ویتان نے اس کے جواب میں لکھا: ’آپ کے ٹویٹ کے لیے شکریہ۔ بدقسمتی سے آپ نے جو تصویر دی ہے ویسی شال لوئی ویتاں نے نہیں بنائي ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لوئی ویتان کے اس ٹویٹ کے بعد پون کھیڑا اور ساگریكا گھوش نے معافی مانگی ہے۔ ساگریكا نے لکھا: ’لوئی ویتان کے ٹویٹ کے بارے میں معافی چاہتی ہوں۔ وزیر اعظم کی شال لوئی ویتاں کی شال نہیں تھی، ہوتی بھی تو کچھ غلط نہیں تھا!‘
خیال رہے کہ وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر براک اوباما کی ہندوستان آمد کے دوران ایک سوٹ پہنا تھا جس پر ان کا نام لکھا ہوا تھا۔ اس پر بہت شور ہوا تھا۔
بعض حلقوں سے یہ بات کہی گئی تھی کہ مودی نے جو سوٹ زیت تن کیا تھا وہ 10 لاکھ روپے کا تھا۔ بعد میں یہ سوٹ 4.31 کروڑ میں نیلام ہوا۔







