میچ فکسنگ کا ’خاتمہ‘ اور عام آدمی پارٹی بنی خاص

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
میچ فکسنگ ہمیشہ کے لیے ختم
ہم سمجھتے رہے کہ کرکٹ سے کبھی میچ فکسنگ اور سٹے بازی ختم نہیں ہوسکتی لیکن بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ یا بی سی سی آئی نے ایسی غیر معمولی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے کہ شاطر سے شاطر سٹےباز کی بھی کھیل کے میدان پر قدم رکھتے ہوئے روح فنا ہوا کرے گی۔
ایک بڑے اخبار کے مطابق بی سی سی آئی نے کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ ’وہ میچوں کے دوران کسی کو آٹوگراف نہ دیں کیونکہ سٹے باز اس بہانے کھلاڑیوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، (مثال کے طور پر) کھلاڑیوں کو بتایا جاسکتا ہے کہ بیٹنگ کرتے وقت انہیں کتنے رن بنانے چاہییں!‘
اب جب بھی کوئی چھوٹا بچہ کسی بڑے کھلاڑی کا آٹوگراف لینے جائے گا تو ذہن میں بس یہ ہی تصویر ابھرے گی کہ کیا یہ معصوم نظر آنے والا بچہ سٹے بازوں کے کسی خطرناک گروہ کا سرغنہ تو نہیں؟
اور جب بھی کوئی کھلاڑی آٹوگراف دے گا تو اس کے دل میں یہ ڈر تو رہے گا ہی کہ سٹے بازوں نے کہیں انجانے میں اس سے کسی ایسے معاہدے پر تو دستخط نہیں کرا لیے کہ وہ کتنے رن بنائے گا یا کتنی نو بالز کرےگا۔
اور اگر بی سی سی آئی کے انٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ کے ایس مادھون کی وضع کردہ اس حکمت عملی پر واقعی عمل شروع ہو جاتا ہے تو میدان میں پھول لے جانے پر بھی پابندی لگائی جاسکتی ہے اور کبوتروں کے اڑنے پر بھی کیونکہ یہ تو شاید ہی کوئی مانے کہ سٹے باز کھلاڑیوں سے میچ کے دوران ہی پہلی مرتبہ رابطہ کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایسا تو شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ کسی سٹے باز نے باؤنڈری کے قریب فیلڈنگ کرنے والے کسی کھلاڑی سے جا کر کہا ہو کہ ’جانی، ہمارے لیے کھیلو گے، تمہاری زندگی بنادیں گے؟ تنخواہ بھی دس لاکھ اور کام بھی کچھ نہیں، بس جلدی آؤٹ ہوجانا، ویسے بھی آج بہت گرمی ہے۔‘
اور کھلاڑی نے کہا ہو کہ ’دس تو بہت کم ہیں۔ 20 کر دو ورنہ میں سنچری بنا دوں گا۔‘
تو مادھون صاحب، کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ میں لال گلاب ہے تو یہ بھی ایک کوڈ ہوسکتا ہے کہ 25 سے کم بنانے ہیں یا زیادہ، اگر ہوا میں غبارے چھوڑے جاتے ہیں تو یہ بھی ایک پیغام ہوسکتا ہے، اگر کھلاڑی کے سامنے آنکھ ماری جائے تو یہ بھی ایک اشارہ ہوسکتا ہے، شرٹ کا رنگ پینٹ کا رنگ، سر پر ٹوپی، ٹوپی کا رنگ۔۔۔ کہنے کا مطلب آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے، لیکن براہ کرم ان سب پر ایک ساتھ پابندی مت لگائیے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عام آدمی پارٹی بھی خاص بن گئی
ہندوستان تیزی سے بدل رہا ہے۔
عام آدمی پارٹی کو ہی لیجیے۔ صرف دو سال میں پارٹی نے ملک کا سیاسی منظرنامہ بدل ڈالا، باقی پارٹیوں کو نئے انداز سے سوچنے پر مجبور کیا لیکن اب خود بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
پارٹی نے اپنے دو سب سے سینیئر رہنماؤں کا بستر گول کر دیا ہے۔ ان پر وزیرِ اعلی اروندی کیجریوال کے خلاف سازش رچنے کا الزام ہے۔
اگر یہ بات سچ ہے کہ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو خود کیجریوال کےاشارے پر پولیٹکل افیئرز کمیٹی سے نکالا گیا ہے، اور کیجریوال کسی بھی قیمت پر ان دونوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، تو پھر عام آدمی پارٹی بھی تیزی سے دوسری روایتی جماعتوں کے راستے پر ہی چل رہی ہے۔
سیاست میں یہ سب تو چلتا ہے، لیکن اس ملک میں مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہر شخص قوم کی خدمت کر رہا ہے۔
یہاں تک کے عام آدمی پارٹی کے چھوٹے موٹے رہنما بھی۔ مثال کے طور پر آشیش کھیتان کو ہی لیجیے، انہوں نے اس بحران کے دوران ٹویٹ کیا کہ کچھ لوگ (ان اختلافات کے بارے میں) بلاگ لکھ رہے ہیں، اور کچھ (ہم جیسے) دیش کی خدمت کر رہے ہیں۔
آشیش سے گزارش یہ ہے کہ بلاگ لکھنے کے لیے دیس کی خدمت سے پانچ دس منٹ کی مہلت تو ملنی چاہیے۔
اگر آپ چھوٹی چھوٹی بریک لیتے رہیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ملک کی ترقی کی رفتار تو کچھ سست پڑ جائے لیکن اس کام میں آپ کا دل لگا رہے گا۔







