گھر واپسی کے لیے بےقرار

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
کچھ انکشافات آپ کو دانتوں تلے انگلی دبانے پر مجبور کردیتے ہیں، کچھ کو سن کر لگتا ہے کہ یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے اس میں نئی بات کیا ہے؟
مثال کے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی پھر غیر ملکی دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔ اس مرتبہ نشانے پر قزاقستان، کرغیستان، تاجکستان، ازبیکستان اور ترکمانستان ہیں اور جب ادھر سے نکلیں گے تو روس تو راستے میں پڑتا ہی ہے، وہاں بھی ہوتے آئیں گے۔
پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف بھی روس میں ہوں گے تو ہو سکتا ہے کہ ان سے ملاقات بھی کر لیں اور نواز شریف سے ملاقات ہوگی تو داؤد ابراہیم کا ذکر تو آئے گا ہی۔
سنا ہے کہ دونوں رہنما 10 جولائی کو روس کے شہر اوفا میں مل سکتے ہیں جہاں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہونا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پاکستانی ہم منصب سے شاید پھر یہ مطالبہ کریں گے کہ 1993 کے ممبئی بم حملوں کے لیے مطلوب انڈر ورلڈ کے سرغنہ داؤد ابراہیم کو ہندوستان کے سپرد کر دیا جائے، لیکن اس مرتبہ نواز شریف ہمیشہ کی طرح یہ تو کہیں گے ہی کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں نہیں ہیں، لیکن ساتھ ہی انہیں یہ کہنے کا بھی موقع ملے گا کہ جب داؤد ابراہیم خود ہندوستان آنا چاہتے ہیں تو آپ آنے نہیں دیتے، اور جب بھی میں نظر آتا ہوں تو تقاضہ دوبارہ شروع کر دیتے ہیں!
دراصل ٹائمز آف انڈیا نے یہ انکشاف کیا ہے کہ داؤد ابراہیم اور ان کے معتمد چھوٹا شکیل نے 1990 کے عشرے میں خود کو ہندوستانی حکام کے سپرد کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن حکومت نے ان کی تجویز مسترد کر دی۔
یہ بات خود چھوٹا شکیل نے اخبار کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اور بی جے پی کے سابق وزیر قانون رام جیٹھملانی نے اس بات کی تصدیق کی ہے، اور شرد پوار نے بھی جو اس وقت مہارشٹر کے وزیر اعلی تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چھوٹا شکیل اور داؤد ابراہیم کی شرط یہ تھی کہ ان پر تشدد نہ کیا جائے (شرد پوار کے مطابق گرفتار بھی نہ کیا جائے) اور جیل کے بجائے انہیں گھر میں قید رہنے دیا جائے۔
رام جیٹھملانی نے یہ تجویز تحریری طور پر مہاراشٹر کی حکومت کو بھیج دی تھی لیکن شرد پوار کی حکومت نے کہا کہ وہ ایسی کوئی ضمانت نہیں دے سکتی، اس لیے بات وہیں ختم ہوگئی!
حکومت کی سچائی اور داؤد ابراہیم کی سادگی پر دانتوں تلے انگلی دبانے کا دل کرتا ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہےکہ حکومتیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں، اپنے وعدے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتیں، جو کہہ دیا بس اس پر قائم رہتی ہیں چاہے وعدہ ایک ایسے شخص سے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو جو تقریباً 250 معصوم شہریوں کے قتل کے لیے مطلوب ہو!
اور داؤد ابراہیم کی سادگی کو بھی سلام۔ وہ بھی حکومت پر بہت بھروسہ کرتے ہیں۔
انھوں نے بھی سوچا ہوگا کہ کب تک ادھر ادھر بھٹکتے رہیں گے، چلو واپس ممبئی چلتے ہیں، وہیں سکوں کی زندگی گزاریں گے، تمام یار دوست وہیں ہیں، بھائی لوگ بھی وہیں ہیں، باہر رہ کر کاروبار سنبھالنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
آپ کو شاید لگے کہ یہ رابطہ غیر معمولی تھا، لیکن ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے اس ہفتے کچھ ایسے انکشافات کیے ہیں کہ انگلیوں کو دانتوں سے دور ہی رکھنا بہتر ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ ممنوعہ تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین نے کشمیر کے ایک میڈیکل کالج میں اپنے بیٹے کا داخلہ کرانے کے لیے خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی آئی بی کی مدد لی تھی۔
حزب المجاہدین نےتو اس دعوے کو مسترد کیا ہے لیکن اے ایس دولت کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے رابطے کوئی غیر معمولی بات نہیں ہیں اور سید صلاح الدین آج بھی ہندوستان لوٹنا چاہتے ہیں بس انھیں واپس لانے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
ان دعوؤں میں کتنی سچائی ہے کہنا مشکل ہے لیکن اگر یہ واقعی درست ہیں تو داؤد ابراہیم اور سید صلاح الدین جسے لوگوں کی شخصیت کا ایک ان دیکھا پہلو ضرور سامنے آتا ہے، انہیں بھی اپنے وطن سے محبت ہے اور وہ گھر واپسی کے لیے بے قرار ہیں۔







