کابل کے خطروں میں گھرے روز و شب

جب صدر حامد کرزئی حکومت میں تھے تو سب بہتر تھا، ہم کسی حد تک محفوظ تھے۔ لیکن اب صورت حال اور بھی ابتر ہوتی جا رہی ہے: حُسنیہ عبداللہ
،تصویر کا کیپشنجب صدر حامد کرزئی حکومت میں تھے تو سب بہتر تھا، ہم کسی حد تک محفوظ تھے۔ لیکن اب صورت حال اور بھی ابتر ہوتی جا رہی ہے: حُسنیہ عبداللہ
    • مصنف, شائمہ خلیل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، کابل

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سینٹرل پارک میں داخلے کے راستے کی جگہ اس وقت لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ ٹکٹ گھر کے سامنے لمبی قطاروں میں کھڑے لوگ بے صبری سے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

پارک کے اندر کینڈی فلاس، سینڈوچ اور فرنچ فرائز کے سٹالوں پر بھی قطاریں بننا شروع ہوگئی ہیں۔ یہ ہفتہ وار چھٹی کا دن ہے اور لوگ بڑی تعداد میں بچوں کے ساتھ باہر نکلے ہوئے ہیں۔ پارک میں جھولوں پر چلنے والی موسیقی اور پُرجوش بچوں کی آوازیں گونج رہی ہیں۔

چھوٹے بچے اور بچیاں جلدی جلدی جھولوں پر بیٹھنے کے لیے جا رہے ہیں جبکہ ان کے والدین ٹکٹ لیے ان کے پیچھے رواں ہیں۔

27 سالہ حُسنیہ عبداللہ چائے کے کپ کی شکل کے جھولے میں اپنے دو بچوں کے ساتھ بیٹھ گئی ہیں۔ وہ انھیں کئی مہینوں کے بعد باہر لے کر نکلی ہیں۔

یہ پارک کا ایک غیر معمولی دورہ ہے۔ گذشتہ کچھ ماہ میں کابل میں امن و امان کی صورت حال خاصی خراب ہو گئی ہے۔ اگست میں دارالحکومت کابل پر کئی خونریز حملے ہوئے ہیں۔

حُسنیہ نے میرے ساتھ گھاس پر بیٹھ کے بتایا کہ ’جب بچے سکول میں نہیں ہوتے تو میں انھیں گھر کے اندر ہی رکھتی ہوں۔ ہم جب بھی دوستوں اور خاندان والوں سے ملنے جاتے ہیں تو گھروں کے اندر ہی رہتے ہیں۔‘

کابل کے سینٹرل پارک میں چھٹی کے دن گہما گہمی دکھائی دے رہی ہے
،تصویر کا کیپشنکابل کے سینٹرل پارک میں چھٹی کے دن گہما گہمی دکھائی دے رہی ہے

حُسنیہ افغان پناہ گزینوں میں شامل تھیں لیکن دس سال قبل اپنے خاوند کے ہمراہ وہ ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھنے اور نئی زندگی شروع کرنے کے لیے واپس آگئی تھیں۔

اُنھیں امید تھی کہ طالبان کے زوال اور نئے رہنما کی تقرری کے بعد انھیں بہتر اور مستحکم زندگی گزارنے کے مواقع ملیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب ہم واپس آئے تو حالات بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جب صدر حامد کرزئی حکومت میں تھے تو سب بہتر تھا، ہم کسی حد تک محفوظ تھے۔

’ لیکن اب صورت حال اور بھی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ جتنی بار میرے خاوند یا بچے گھر سے باہر جاتے ہیں میں ان کی محفوظ واپسی کی دعا کرتی ہوں، لیکن مجھے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ محفوظ واپس لوٹیں گے۔‘

صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت کو اس وقت مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

پڑوسی ملک پاکستان سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مدد مانگ کر افغان رہنما نے سیاسی طور پر ایک جوا کھیلا ہے۔

پاکستان پر کافی عرصے سے مسلح باغی گروہوں کی حمایت کرنے اور انھیں پناہ دینے کا الزام ہے جس کی وہ تردید کرتا رہا ہے۔

 سینٹرل پارک کے اندر کا منظر کابل کی سڑکوں سے مختلف منظر پیش کر رہا ہے
،تصویر کا کیپشن سینٹرل پارک کے اندر کا منظر کابل کی سڑکوں سے مختلف منظر پیش کر رہا ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نزدیک واقع پُر فضا پہاڑی مقام مری میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ہی جولائی میں مفرور طالبان رہنما ملا محمد عمر کی موت کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ اس کے بعد مذاکرات کا عمل معطل ہوگیا تھا جبکہ دوسری جانب کابل پر حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا تھا۔

اپنے چھ سالہ بچے نصیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حُسنیہ نے کہا کہ ’آج کل میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنا ملک چھوڑ کر بھاگ جاؤں۔ میں یہاں سے اپنے لیے نہیں جانا چاہتی بلکہ اپنے بچوں اور ان کی بہتر زندگی کے لیے جانا چاہتی ہوں۔

’حالات اگر ایسے ہی رہے تو مجھے یہاں کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ ہر روز دھماکے، ہر روز اپنے خاوند اور اپنے بچوں کی فکر، مجھے نہیں لگتا کہ یہ معمول کی زندگی ہے۔‘

لیکن پارک کے اندر کا ماحول فریب نظر ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس کے باہر سب کچھ بالکل معمول پر ہو۔ کابل کی اصلیت آپ کو جب پتہ لگتی ہے جب آپ اس کی سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ اس شہر میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے حملوں کے بعد جن میں درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی تھی۔

پے در پے ہونے والے تین دھماکوں سے کابل گونج اٹھا تھا، ان حملوں میں 50 لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ 24 سے بھی کم گھنٹوں میں ہونے والے ان دھماکوں کے دو دن بعد ہی کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے داخلی راستے کے نزدیک افغان پولیس کی چوکی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے ہی نیٹو کے قافلے پر ہونے والے خود کش حملے میں امریکی شہریت کے حامل تین کنٹریکٹر مارے گئے تھے۔

شدت پسندوں نے دارالحکومت پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کابل میں کچھ ہوگا تو میڈیا اسے ضرور دکھائے گا۔ مجھے لگتا ہے مزید دھماکے کبھی بھی کہیں بھی ہو سکتے ہیں: عبدالرحمٰن رحیمی
،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں نے دارالحکومت پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کابل میں کچھ ہوگا تو میڈیا اسے ضرور دکھائے گا۔ مجھے لگتا ہے مزید دھماکے کبھی بھی کہیں بھی ہو سکتے ہیں: عبدالرحمٰن رحیمی

مبصرین کا کہنا ہے کہ ملا اختر منصور کی قیادت کو طالبان کے اندر ہی دوسرے گروہوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے اور پر تشدد کارروائیوں میں حالیہ اضافے کی وجہ طالبان کے اندر طاقت کے حصول کے لیے جاری جنگ ہے۔

حکام کا خیال ہے کہ یہ حملے طالبان کے نئے سربراہ کی جانب سے پیغام ہیں کہ عسکریت پسندوں میں اب بھی اتنی طاقت ہے کہ کابل پر حملہ کر سکیں۔

کابل پولس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالرحمٰن رحیمی کو خدشہ ہے ابھی مزید دھماکے ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’شدت پسندوں نے دارالحکومت پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کابل میں کچھ ہوگا تو میڈیا اسے ضرور دکھائے گا۔ مجھے لگتا ہے مزید دھماکے کبھی بھی کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔

’عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہم دن رات کام کر رہے ہیں۔‘

کابل کے ایک پُر رونق حصے میں میری ملاقات 18 سالہ سحر قادری سے ہوئی، وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں قانون پڑھ رہی ہیں اور ابھی پہلے سال میں ہیں۔

سحر کا کہنا تھا کہ خراب حالات کے باوجود وہ کہیں اور نہیں جانا چاہتیں۔

انھوں نے بتایا: ’مجھے یہیں رہنا ہے۔ یہ میرا ملک ہے۔ زندگی میں میرے بہت سارے اہداف ہیں۔ میں پڑھائی میں سخت محنت کرنا چاہتی ہوں تاکہ وکیل بن سکوں۔

’لیکن ان خودکش دھماکوں کی وجہ سے یہاں کی صورت حال خراب ہے۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد عام شہری ہیں۔

’وہ بھی پڑھنا چاہتے تھے، کام کرنا چاہتے تھے۔ یہاں زندگی بہت مشکل ہے لیکن میری دعا ہے کہ ایک دن یہاں امن و امان ہو گا۔‘

سحر ہفتے میں چھ دن کلاسیں لینے جاتی ہیں اور ان دنوں میں ان کو فائرنگ کے واقعات اور خودکش دھماکوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سب سے نمٹنا اب معمولات میں شامل ہوگیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہمیں اس کی عادت ہوگئی ہے، یہاں ہر وقت دھماکہ یا خودکش حملہ ہوتا رہتا ہے۔ میں جب بھی باہر جاتی ہوں مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ کیا میں گھر واپس آ بھی پاؤں گی یا نہیں۔ لیکن میں اپنی تعلیم جاری رکھوں گی اور جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا۔‘