کابل میں تشدد کی لہر

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئر پورٹ کے قریب خودکش حملہ آور کا ہدف بکتر بند گاڑیوں کا ایک قافلہ تھا

افغانستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک چوکی پر خود کش حملہ ہوا ہے جس میں کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک چوکی پر خود کش حملہ ہوا ہے جس میں کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
وزارتِ صحت کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سوموار کی دوپہر کو ہونے والے اس خود کش حملے میں سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوزارتِ صحت کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سوموار کی دوپہر کو ہونے والے اس خود کش حملے میں سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کا ہدف بکتر بند گاڑیوں کا ایک قافلہ تھا۔
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کا ہدف بکتر بند گاڑیوں کا ایک قافلہ تھا۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گذشتہ چند دنوں میں دہشت گردی کی کئی کارروائیاں ہوئی ہیں اور یہ تازہ حملہ بظاہر انہی کارروائیوں کی ایک کڑی نظر آتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنافغانستان کے دارالحکومت کابل میں گذشتہ چند دنوں میں دہشت گردی کی کئی کارروائیاں ہوئی ہیں اور یہ تازہ حملہ بظاہر انہی کارروائیوں کی ایک کڑی نظر آتا ہے۔
کابل میں گذشتہ جمعے کو ہونے والے دہشت گردی کے تین سنگین واقعات کے بعد صدر اشرف غنی نے سنیچر کو قومی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر غور کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنکابل میں گذشتہ جمعے کو ہونے والے دہشت گردی کے تین سنگین واقعات کے بعد صدر اشرف غنی نے سنیچر کو قومی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر غور کیا گیا تھا۔
کابل پولیس کے سربراہ سید گل آغا روحانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ سوموار کی دوپہر ایک خود کش حملہ آور نے شہر کے ہوائی اڈے کے راستے میں پہلی چوکی سے اپنی گاڑی ٹکرا دی۔
،تصویر کا کیپشنکابل پولیس کے سربراہ سید گل آغا روحانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ سوموار کی دوپہر ایک خود کش حملہ آور نے شہر کے ہوائی اڈے کے راستے میں پہلی چوکی سے اپنی گاڑی ٹکرا دی۔
جائے وقوعہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں دھماکے کی جگہ سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے دکھائی دیتے ہیں جس سے دھماکے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دھماکے کے بعد یہ شاہراہ ایمبولینسوں کے سائرنوں سے گونجنے لگی۔
،تصویر کا کیپشنجائے وقوعہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں دھماکے کی جگہ سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے دکھائی دیتے ہیں جس سے دھماکے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دھماکے کے بعد یہ شاہراہ ایمبولینسوں کے سائرنوں سے گونجنے لگی۔
ابھی تک دھماکے کی ذمہ داری کسی گروہ کی طرف سے قبول نہیں کی گئی ہے لیکن اس سے قبل کابل شہر میں ہونے والے دھماکے تین دھماکوں میں سے ایک کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔ اس دھماکے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنابھی تک دھماکے کی ذمہ داری کسی گروہ کی طرف سے قبول نہیں کی گئی ہے لیکن اس سے قبل کابل شہر میں ہونے والے دھماکے تین دھماکوں میں سے ایک کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔ اس دھماکے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔