بھارت: پارلیمان میں رخنہ، کانگریس کے 25 اراکین معطل

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارتی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یا لوک سبھا کی سپیکر نے کانگریس پارٹی کے 25 اراکین کو ایوان کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے پر پانچ دن کے لیے معطل کر دیا ہے۔
کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے سپیکر کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’یہ جمہوریت کے لیے ایک کالا دن ہے۔‘
بھارت میں گذشتہ دس دنوں سے جاری یہ بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ جب سے پارلیمان کا اجلاس شروع ہوا ہے، حزبِ اختلاف اور خاص طور پر کانگریس کے ہنگامے کی وجہ سے ایک بھی دن کام کاج نہیں ہو سکا لیکن حزب اِختلاف کے اراکین کو اس طرح معطل کرنا انتہائی غیر معمولی قدم ہے۔
لوک سبھا کی سپیکر سمترا مہاجن نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں نے ایوان کی کارروائی چلانے کی بہت کوشش کی لیکن حزبِ اختلاف کے اراکین اپنے احتجاج میں حد سے گزر گئے تھے، انھیں معطل کرنے کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔‘
بھارت میں اس تنازعے کا آغاز بی جے پی کے تین سینئیر رہنماؤں کے استعفوں کے بعد شروع ہوا۔
بھارت کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج اور راجستھان کی وزیرِ اعلیٰ وسندھرا راجے پر الزم ہے کہ انھوں نے آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کی مدد کی تھی حالانکہ وہ منی لانڈرنگ کے الزامات میں خود ان کی حکومت کو مطلوب تھے جبکہ مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ شو راج سنگھ چوہان کو سرکاری نوکریوں اور پروفیشنل کالجوں میں داخلوں سے متعلق ایک گھپلے میں الزامات کا سامنا ہے۔
بھارتی حزبِ اختلاف کا مطالبہ ہے کہ ان تینوں کے خلاف عائد الزامات پر بحث ہو لیکن اس سے پہلے وہ استعفیٰ دیں، جس کے لیے حکومت تیار نہیں ہے۔
اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے پیر کی صبح ایک کل جماعتی کانفرنس طلب کی گئی تھی لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھاڑگے نے کہا کہ حکمراں بی جے پی اپوزیشن کی آواز دبانا چاہتی ہے بالکل اسی انداز میں جیسا اس نے گجرات میں کیا تھا۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے نریندر مودی گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔
سپیکر کے فیصلے کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں اب متحد ہو سکتی ہیں۔ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس اور اروند کیجری وال کی عام آدمی پارٹی نے کانگریس سے اظہار یکجہتی کے طور پر پانچ دن تک پارلیمان کی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔







