بھارت میں لوک سبھا کے اہم پارلیمانی اجلاس کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAP
بھارتی پارلیمان میں آج ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا کا اہم اجلاس شروع ہو رہا ہے جہاں اس بات کا امکان ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں تین وفاقی وزرا کے استعفوں کے اپنے مطالبے کے پیشِ نظر ایوان کی کارروائی نہ ہونے دیں۔
ادھر برسرِاقتدار جماعت بی جے پی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ اگر حزبِ اختلاف نے جارحانہ رویہ اختیار کیا تو حکومت اس لڑائی کے لیے تیار ہے۔
بی جے پی کی حکومت اس اجلاس میں زمینوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے ایک متنازع بل بھی پیش کرنے والی ہے جس کی سخت مخالفت کی توقع کی جا رہی ہے۔
پارلیمانی اجلاس آج منگل کے روز شروع ہو رہا ہے اور 8 اگست کو اختتام پزیر ہوگا۔
حزبِ اختلاف کا مطالبہ ہے کہ وزیرِ خارجہ سشما سوراج اور ریاست راجھستان کے وزیرِاعلیٰ واشندھرا راجے دونوں استعفیٰ دیں۔ دونوں وزرا پر الزام ہے کہ انھوں نے کرکٹ لیگ آئی پی ایل کے سابق سربراہ لالت مودی کو برھانیہ کا ویزہ دلاوانے اور بھارت چھوڑنے میں مدد کی۔ لالت مودی اس وقت لندن میں مقیم ہیں اور بھارتی حکام کو ٹیکس فراڈ کے حوالے سے مطلوب ہیں۔
حزبِ اختلاف کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ملک میں میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے امتحانات میں بڑے پیمانے بدعنوانی کے الزامات پر مدھیا پردیش کے وزیرِاعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان بھی استعفیٰ دیں۔
پارلیمانی امور کے وزیر ونکائکھ نیدو نے حزبِ اختلاف کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سے بھی الٹیمیٹم نہیں لیا جا سکتا اور کوئی بھی پارلیمنٹ کو ڈکٹیشن نہیں دے سکتا۔
گذشتہ روز پیر کو وزیراعظم مودی نے انہی معاملات کو سلجھانے کے لیے کل جماعتی اجلاس بلایا تھا تاہم اطلاعات کے مطابق حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم مودی نے اپنے اتحادیوں سے بھی ملاقات کی اور اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کو بیک فٹ پر نہیں ہونا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان معاملات حل نہ ہو سکے تو یہ پارلیمانی سیشن مکمل طور پر ناکام ہو جائے گا۔








