بھارت کا نقل سکینڈل: ملزمان کی فہرست لمبی ہے

وزیر اعلیٰ شو راج سنگھ چوہان وہاں پارٹی کو لگاتار تین مرتبہ اسمبلی انتخابات میں فتح سے ہم کنار کرا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنوزیر اعلیٰ شو راج سنگھ چوہان وہاں پارٹی کو لگاتار تین مرتبہ اسمبلی انتخابات میں فتح سے ہم کنار کرا چکے ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شو راج سنگھ چوہان میڈیکل کالج جیسے تعلیمی اداروں میں داخلوں اور سرکاری ملازمتوں کے لیے بھرتی سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تفیتش سی بی آئی سے کرانے پر تیار ہوگئے ہیں لیکن حزب اختلاف کانگریس ان کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہے۔

اس کیس سے وابستہ بہت سے لوگوں کی پر اسرار حالات میں ہلاکت ہونے کے بعد اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے، جہاں جمعرات کو اس پر غور کیا جائے گا۔ یہ کیس ’ویاپم سکیم‘ کے نام سے مشہور ہے۔

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ شو راج سنگھ چوہان وہاں پارٹی کو لگاتار تین مرتبہ اسمبلی انتخابات میں فتح سے ہم کنار کرا چکے ہیں۔

پروفیشنل کالجوں میں داخلوں اور سرکاری ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات پہلی مرتبہ تقریباً چار سال پہلے منظر عام پر آئے تھے اور تب سے اس کیس سے وابستہ 40 سے زیادہ لوگوں کی پر اسرار حالات میں موت ہو چکی ہے۔

الزام یہ ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے پیچھے جن لوگوں کا ہاتھ تھا، وہ اس کیس کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملزمان کی فہرست لمبی ہے اور اب تک تقریباً ڈھائی ہزار لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں۔

دو ہزار سے زیادہ لوگ گرفتار کیے جا چکے ہیں جن میں طالب علم، ان کے والدین اور تقریباً سو سیاستدان بھی شامل ہیں۔

لیکن الزام یہ ہے کہ اس مبینہ گھپلے میں اعلیٰ عہدے پر فائز سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کا ہاتھ تھا جو اب تک بچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اسی لیےسینیئر وکلا کے ایک گروپ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور عدالت نے ان کی درخواست سماعت کے لیے قبول کر لی تھی۔

کانگریس چاہتی ہے کہ تفتیش سپریم کورٹ کی نگرانی میں کی جائے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکانگریس چاہتی ہے کہ تفتیش سپریم کورٹ کی نگرانی میں کی جائے

لیکن یہ معاملہ ایک نوجوان صحافی کی اچانک موت کے بعد سرخیوں میں آیا ہے اور اب اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر چھایا ہوا ہے۔

صحافی کا تعلق ایک بڑے ٹی وی چینل سے تھا اور وہ اپنے طور پر اس کیس کی تفتیش کر رہے تھے۔

جن لوگوں کے خلاف انگلی اٹھائی جا رہی ہے ان میں وزیر اعلیٰ اور ریاست کے گورنر بھی شامل ہیں۔ سی بی آئی سے تفتیش کرانے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا حکمرانوں کو شبہے کے دائرے سے باہر ہونا چاہیے۔ اس لیے انھوں نے تفتیش سی بی آئی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔

کانگریس چاہتی ہے کہ تفتیش سپریم کورٹ کی نگرانی میں کی جائے۔ پارٹی کے ترجمان آر پی این سنگھ نے کہا کہ ایک تفیش ویاپم گھپلے کی ہونی چاہیے اور دوسری پراسرار اموات کی اور عدالت کو تفتیش کی نگرانی کرنی چاہیے۔

سیاسی تجزیہ نگار ابھے دوبے کہتے ہیں کہ کیس سے وابستہ اتنے لوگوں کی اچانک موت محض اتفاق نہیں ہو سکتی اور یہ کہ سپریم کورٹ کو اب اس تفتیش کو اپنے ہاتھوں میں لے لینا چاہیے۔

ویاپم کی سچائی سامنے آنے میں تو وقت لگےگا لیکن ریاست میں بی جے پی کی حکومت کے لیے اب مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔