بھارتی وزیر نے معافی مانگ لی

،تصویر کا ذریعہother
بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلی امور کرن ریجیجو نے اس خاندان سے معافی مانگی ہے جس کو ائیر انڈیا کی پرواز سے اس لیے اتار دیا گیا تھا کیونکہ کرن ریجیجو اور جموں کشمیر کے نائب وزیر اعلی نرمل سنگھ کو سیٹ دینی تھی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے کرن ریجیجو کے حوالے سے کہا ہے ’ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری وجہ سے تین مسافروں کو جہاز سے اتارا گیا تھا۔ مجھے اس واقعہ کا افسوس ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا’ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میری وجہ سے مسافروں کو جہاز سے اتارا جا رہا ہے تو یہ واقعہ کبھی نہیں ہوتا‘۔
واضح رہے کہ کرن رجیجو کی سوشل میڈیا پر اس بات پر بے حد تنقید ہورہی ہے کہ ان کو سیٹ فراہم کرنے کے لیے سرکاری ائیر لائن ایئر انڈیا نے تین افراد کے ایک خاندان کو فلائٹ سے اتارا جس میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔
انگریزی اخبار ’دا اکنومک ٹائمز‘ کا کہنا ہے کہ ان کی وجہ سے ہی ائیر انڈیا کی فلائٹ ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوئی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر اور فیس بک پر لوگوں نے اس بات پر ناراضی کا اظہار کیا ہے کہ آج کے جدید دور میں بھی انڈیا میں سیاستدانوں کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟
بھارت میں ذرائع ابلاغ کے مطابق 24 جون کو لیہ لداخ سے دلی آنے والی ائیر انڈیا کی فلائٹ پرواز بھرنے ہی والی تھی جب فضائیہ کے ایک افسر، ان کی اہلیہ اور ان چھوٹے بچے کو یہ کہ کر اتار دیا گیا کہ بعض اوقات وی آئی پی مسافروں کو جہاز ایمرجنسی میں دلی جانا پڑ رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کرن رجیجو کے ساتھ کشمیر کے نائب وزیر اعلٰی نرمل سنگھ بھی سفر کررہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی فضائیہ کی جانب جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جہاز کو مقررہ وقت کے مطابق دس بج کر بیس منٹ پر روانہ ہونا تھا لیکن چونکہ دونوں وزراء کو گیارہ بجے بورڈنگ پاس ملے تو جہاز تقریباً ایک گھنٹے بعد گیارہ بج کر بارہ منٹ پر لداخ ائیرپورٹ سے اڑا۔
کرن رجیجو کا کہنا ہے کہ ان کی وجہ سے جہاز اڑنے میں تاخیر نہیں ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا ’ ائیر انڈیا نے پرواز کا وقت بدل کر گیارہ بج کر چالیس منٹ کردیا تھا اور اس کے بارے میں اس نے مسافروں کو اطلاع اس تبدیلی سے تھوڑی دیر پہلے ہی دی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پورا معاملہ اس لیے ہوا کیونکہ ائیرلائن سٹاف ساری تبدیلی کے بارے میں صحیح طور پر آگاہ نہیں تھا۔
نجی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کے دفتر نے محکمہ شہری ہوا بازي سے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ اور اس سے قبل ایسے ہی ایک واقعہ کی تفصیل سے رپورٹ دیں کہ آخر وزراء کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر کیوں ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ اس قبل گزشتہ ہفتے امریکہ کو جانی والی پرواز میں اس لیے تاخیر ہوئی تھی کیونکہ مہاراشٹر کے وزیر اعلی اسی پرواز پر تھے لیکن وہ اپنا پاسپورٹ لانا بھول گئے تھے۔
انڈیا میں یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی وزیر یا بڑی سیاسی شخصیت کی وجہ سے عوام کو پریشانی ہوئی ہو۔ انڈیا میں وائی آئی پی شخصیات کے لیے ٹریفک کا نظام بند کرنا، ائیرپورٹس اور ریلوے سٹیشنوں پر عوامی نقل و حمل بند کرنا عام بات ہے۔







