ہوا، پانی، پرندوں کے لیے ویزا فری

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
سرحد پار آنے جانے والے کبوتروں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔
وہ یہ کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کر دیا ہے کہ پانی، ہوا اور پرندوں کو سرحدیں پار کرنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
حکومت کی اس نئی پالیسی کے خد وخال ابھی واضح نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نے یہ اعلان بنگلہ دیش میں کیا ہے جہاں وہ پرانا سرحدی تنازع حل کرنے گئے تھے۔
یہ ایک ایسی غیر معمولی سرحد ہے جہاں تقریباً 50 ہزار لوگ قانونی طور پر سرحد کی غلط طرف رہتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی بستیاں، یا چٹ محل، علاقۂ غیر میں واقع ہیں۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں نے 1974 میں اتفاق کیا تھا لیکن معاہدے کو حتمی شکل دینے میں 41 سال لگ گئے۔
یہ فیصلے جلد بازی میں نہیں بہت سوچ سمجھ کر کیے جاتے ہیں۔ آخر انسانی جانوں کاسوال ہے۔ لیکن انجام کار ان لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو ہی گیا کہ وہ سرحد کے کس پار رہنا چاہتے ہیں۔
اس کے برعکس کبوتروں کا مسئلہ صرف دو ہفتوں کے اندر حل کر دیا گیا ہے۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وزیراعظم نے یہ رعایت صرف بنگلہ دیشی کبوتروں کو دی ہے یا سارک ممالک کے سبھی کبوتر اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

گذشتہ ماہ پاکستان سےجب ایک کبوتر اڑ کر سرحد پر ہندوستانی پنجاب میں داخل ہوا تو پلک جھپکتے ہی اسے جاسوسی کے شبے میں دبوچ لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بے چارہ ابھی پنجاب پولیس کی تحویل میں ہے لیکن اونچی اڑان بھرنے کی چاہ رکھنے والے باقی کبوتر اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ نہ وہ جان پر کھیل کر سرحد پار کرتا، نہ پکڑا جاتا، نہ حکومت اپنی پالیسی بدلتی نہ ان کے لیے نئی بلندیوں کو چھونے کی راہ ہموار ہوتی۔
لیکن بس ذرا سی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ سیر و تفریح کے لیے تشریف لائیں، گھومیں پھریں، مزے کریں، بظاہر حکومت خطے کے کبوتروں کے درمیان رابطے بڑھاناچاہتی ہے، لیکن در پردہ کوئی اور ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اس میں نہ کوئی ڈھیل برتی جاسکتی ہے نہ برتی جانی چاہیے۔
اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو انسانوں کے لیے بھی ویزے کی شرائط نرم کی جاسکتی ہیں۔ لیکن کسی جلدبازی میں نہیں، بنگلہ دیش سے تو پرانی دوستی ہے، پھر بھی معاہدے پرعمل کرنے میں 41 سال لگ گئے۔
اور ہاں، کشمیری علیحدگی پسند کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، مسئلہ کشمیر اور چٹ محل کے تنازعے میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کی سرحد پر صرف لوگ ادھر رہنے یا ادھر جانے کا فیصلہ کریں گے، زمین وہیں رہے گی جہاں ہمیشہ سے تھی۔

قانون کے پاسداران کے لیے ’بری‘ خبر
خیر، قانون کی پاسداری کرنے والوں کے لیے کچھ بری خبر ہے۔ لیکن اس کا تعلق وزیر اعظم سے نہیں ان کی ریاست گجرات سے ہے جہاں کچھ ایسا ہونے والا ہے جو شاید پہلے کبھی کہیں نہ ہوا ہو۔
اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق احمد آباد شہر کی بلدیہ ایک انقلابی سکیم شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ نشانے پر وہ لوگ ہیں جو کہیں بھی کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگتے ہیں۔
بلدیہ کے اہلکار شہر کو صاف رکھنا چاہتے ہیں، لہٰذا ان لوگوں کو استنجا خانے جانے پر مائل کرنے کے لیے، انھیں ہر ’سفر‘ کے لیے ایک روپیہ دینے کی تجویز ہے۔
اب استنجا خانوں کے باہر قطاریں لگ جائیں گی اور سو پچاس روپے کمانا کوئی بڑی بات نہیں رہے گی۔
ملک میں یا کم سے کم احمد آباد میں بے روزگاری اور غربت کم ہو گی اور ہمیشہ کی طرح وہ لوگ نقصان میں رہیں گے جو تہذیب کے دائرے میں زندگی گزارتے ہیں اور سڑکوں پر ذرا احتیاط برتتے ہیں۔







