رات ابھی باقی ہے، بات ابھی باقی ہے

،تصویر کا ذریعہTurkhan Karimov
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
آج سے ٹھیک ایک سال پہلے وزیر اعظم نواز شریف اپنے نئے ہندوستانی ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے دہلی میں موجود تھے۔ دونوں رہنما بچھڑے ہوئے دوستوں کی طرح ملے، اور پھر بچھڑ گئے۔
لیکن نریندر مودی نئے دوستوں کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔
وہ دنیا میں ہندوستان کی تصویر بدلنا چاہتے تھے، لیکن چونکہ وہ سارا کام خود اپنے ہاتھوں سے ہی کرنے میں یقین رکھتے ہیں اس لیے کبھی منگولیا تو کبھی فیجی اور کبھی سیشلز جیسے ممالک جاکر انھوں نے ہندوستان کی تصویر بدلی۔
کئی ملکوں میں تصویر بدلنے کی ضرورت نہیں پڑی ہوگی، وہاں لوگوں کو وزیر اعظم کے پہنچنے سے ہی پتہ چل گیا ہوگا کہ سمندر پار بھی ایک دنیا ہے۔ شاید کسی نے ان سے پوچھا بھی ہو یا پوچھنا چاہا ہوکہ ’یہ کس طرف پڑتا ہے جی آپکا دیش؟ اور مودی نےجھلا کر جواب دیا ہو:’ کہیں بھی ہو، ایسا کھبی نہیں ہوتا کہ پائلٹ پلک جھپکے تو جہاز دوسرے ملک میں پہنچ جائے!‘

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن یہ سچ ہے کہ مودی کے آنے کے بعد سے دنیا نے دوبارہ انڈیا کا نوٹس لینا شروع کیا ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی دنیا میں ملک کی تصویر بدلی جاچکی ہے، باقی تقریباً ڈیڑھ سو ملکوں کے لیے ابھی چار سال باقی ہیں!
اپنے انتخابی منشور میں بی جے پی نے بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے کا بھی وعدہ کیا تھا، سوشل میڈیا پر اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ بھائی کالا دھن آتا رہے گا، پہلے وزیراعظم کو واپس لاؤ!
بہرحال، لوگ تو تنقید کرنے کا بہانہ تلاش کرتے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت نے بے گھر لوگوں کو چھت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور پارٹی کے بہت سے رہنماؤں نے اپنی ہمدردی میں سوچا کہ جن لوگوں کے پاس پہلے اچھے گھر تھے لیکن وہ کسی وجہ سے خراب گھروں میں جاکر رہنے پر مجبور ہیں، ان کے لیے بھی کچھ کرنا چاہیے۔
اس لیے گھر واپسی کا پروگرام شروع کیاگیا جو کافی کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔ لوگوں کو ان کے پرانے گھر کی خوبیوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے اور وہ خود اپنی مرضی سے اور بغیر کسی زور زبردستی کے گھر واپسی کر رہے ہیں، اور گھر لوٹتے ہی کہتے ہیں کہ بھلا ہو اس نئی حکومت کا، ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہمارا پشتینی گھر اتنا اچھا ہے!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
حکومت نے ہر گھر سے ایک فرد کا بینک کھاتہ کھلوانے کی مہم بھی شروع کی ہے جو بہت کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔ تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ کروڑوں کھاتے کھولے گئے ہیں، اب بس ان کھاتوں میں پیسے آنے کا انتظار ہے۔
انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ بیرون ملک سے اگر ہندوستانیوں کا کالا دھن واپس آجائے تو ہر ہندوستانی کے حصے میں دس پندرہ لاکھ روپے آئیں گے۔ بہت سے لوگوں کے ذہن میں اب یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہوگا کہ اگر کالا دھن ہندوستان لانےمیں قانونی رکاوٹیں ہیں توغریب ہندوستانیوں کے کھاتے غیرملکی بینکوں میں کیوں نہیں کھول دیے جاتے، وہاں سے لوکل ٹرانسفر آسان رہے گا۔
بہرحال، بات پاکستان پر ہی ختم کرتے ہیں۔ مودی حکومت نے پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ اس کے کئی بڑے لیڈر پاکستان کے برانڈ ایمبیسڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ روز کسی نہ کسی بہانے سے لوگوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے: ’اگر مودی پسند نہیں تو پاکستان جائیے، اگر گائے کا گوشت کھانا ہے تو پاکستان جائیے، اگر ریزرویشن چاہیے تو پاکستان جائیے۔۔۔!

،تصویر کا ذریعہAFP
بی جے پی کی حکومت بس باہر سے سخت ہے، اندر سےبہت نرم دل ہے۔ اگر بڑی تعداد میں سیاح پاکستان جائیں گے تو اس کی میعشت بہتر ہوگی، وہاں روزگار کے نئے موقع پیدا ہوں گے، نوجوان کام کاج میں مصروف ہو جائیں گے تو پاکستان کے مسائل خود بہ خود حل ہونا شروع ہوجائیں گے اور دونوں ممالک پھر ایک دوسرے کے قریب آسکیں گے۔
بی جے پی کے اچھے کاموں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ بس کچھ کا مطلب لوگوں نے غلط نکال لیا۔ لیکن پیغام رسانی میں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہو تو اسے درست کرنے کا ابھی وقت ہے۔ اچھے دن آنے تو چاہئیں لیکن اس چھوٹے سے ملک کی طرح نہیں جہاں پائلٹ نے ذرا آنکھ کیا جھپکی کہ دوسرا ملک آگیا۔ پھر بھی ہوشیار رہیےگا، پانچ سال بعد کہیں کوئی یہ نہ کہے کہ اچھے دن آئے تو تھے آپ نے توجہ نہیں دی ہوگی!
بہت سے لوگ پہلے سال کے رپورٹ کارڈ سے خوش ہیں بہت سے بس پانچ سال کا کورس پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔







