کیا نریندر مودی توقعات پر پورا اترے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی، انڈیا
کیا ایک نئی حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایک سال وقت کافی ہے؟ معاشرتی اور اقتصادی مسائل میں گھرے بھارت جیسے ملک میں ایسا کرنا مشکل ہے تاہم مجموعی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے یہ مناسب وقت ہے۔
گذشتہ سال اقتدار میں آنے والے نریندر مودی اور ان کی بی جے پی کی حکومت کے لیے ایسا ہی ہے۔
نریندر مودی نے صدارتی انتخابات کی طرح انتخابی مہم چلائی تھی کہ اگر وہ منتخب ہوگئے تو ’اچھے دن‘ آئیں گے۔ ان کے حامی آج بھی ان کے اس وعدے سے امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کے مخالفین اسے حقارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے کے لیے دھوکہ دہی قرار دیتے ہیں۔
اس کے باوجود اگر رائے عامہ کے جائزوں پر یقین کر لیا جائے تو بھارتی عوام نریندر مودی کے بارے میں تاحال پرامید ہیں۔
منٹ اخبار کے جائزے کے مطابق کو 74 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہے، اگرچہ اس شرح میں گذشتہ اگست سے آٹھ فیصد کمی ہوئی ہے۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کے جائزے کے مطابق 47 فیصد نے نریندر مودی کی کارکردگی کو ’کسی حد تک بہتر‘ قرار دیا ہے اور ایک چوتھائی کا کہنا ہے کہ ان کی کارکردگی ’نہ اچھی، نہ بری‘ رہی۔
درحقیقت نریندر مودی کا مقابلہ کمزور حریفوں سے ہے: سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی قیادت میں کانگرس پارٹی تاحال گذشتہ سال کی انتخابی شکست سے سنبھل نہیں سکی۔ بھارت کی یہ پرانی بڑی جماعت ملک کی متجسس نئی نسل کو متاثر کرنے میں ناکام رہی ہے، جس میں ووٹروں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نریندر مودی کے بطور وزیراعظم کے مختلف قسم کے ردعمل سامنے آئے ہیں۔
تمام رہنماؤں کو کسی حد تک خوش قسمتی کی ضرورت ہوتی ہے، مودی کو بھی ان کا حصہ ملا۔ مہنگائی اور سالانہ مالیاتی خسارے پر قابو پایا گیا۔ ان دونوں عوامل کے لیے نریندر مودی کو تیل کی قیمتوں میں کمی کے شکرگزار ہونا چاہیے۔ بجلی کی پیداوار ریکارڈ سطح پر بلند ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نریندر مودی کی حکومت تاحال بندعنوانیوں سے دور ہے، اور وہ اپنے وزرا اور بیوروکریٹوں سے سخت محنت کروا رہے ہیں۔ معدنیات کے حقوق کی نیلامی کے منصوبے اس سال کوئلے کی نیلامی سے شروع ہو رہے ہیں، ان منصوبوں میں بدعنوانی پر نظر رکھتے ہوئے شفافیت قائم رکھنا چاہیے۔
انھوں نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو تقویت پہنچائی ہے اور جاپان، آسٹریلیا، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اظہار محبت کیا ہے۔ وہ بیرون ملک رہنے والے بھارتیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ یمن جیسے شورش زدہ ملک میں پھنسے شہریوں کو نکالنے اور نیپال میں زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے انھوں نے سب سے پہلے قدم بڑھائے، جس پر ان کی حکومت کی بے حد تعریف کی گئی۔
کنگز کالج لندن کے ہارش وی پانٹ کہتے ہیں: ’خارجہ پالیسی کی دو ترجیحات ابھر کر سامنے آئی ہیں: جنوبی ایشیا اور چین پر مرکوز ایک بڑے خطے کی انتظامیہ۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ صنعت کار، بیوروکریٹوں اور سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ بدعنوانی بالائی سطح پر ’ڈرامائی انداز میں‘ کم ہوئی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ بدعنوان کانگریس کی حکومت کے بعد ایک اچھی تبدیلی ہے۔
نریندر مودی سوشل میڈیا پر بھی سرگرم ہیں اور تقریروں اور ریڈیو پر ماہانہ خطاب کے ذریعے اپنے لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں، جو بعض اوقات اپنی ہی کامیابی پر بغلیں بجانے جیسا محسوس ہوتا ہے۔ سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کے برعکس نریندر مودی زیادہ بہتر انداز میں ابلاغ کرتے ہیں۔
تاہم حیرت انگیز طور پر اس کے باوجود بھی معاشی حالات میں بہتری نہیں آ رہی۔ ادارے بہتر طور پر کام نہیں کر رہے، صنعتی پیداوار جوں کی توں ہے، بینک میں پیسے نہیں ہیں اور پراپرٹی کی مارکیٹ تاریک ہے۔ بے ترتیب ٹیکس کے نظام سے سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔
زمین کے حصول کے قانون کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت کو صنعت اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کی لیے اس کی اشد ضرور ہے، لیکن اس پر بھی بے اطمینانی کا اظہار کیا گیا اور جب تک اس مسئلے کو دو طرفہ حمایت حاصل نہیں ہوتی، یہ قانونی چارہ جوئی کی نذر ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ نریندر مودی واقعی اصلاح پسند ہیں یا سیٹس کو کے ساتھ چل رہے ہیں۔ یا پھر جیسا اقتصادی ماہر ویوک دہیجیا کہتے ہیں: ’نریندر مودی تیزی اور بنیادی تبدیلی کے بجائے آہستہ آہستہ اصلاحات کے نفاذ کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
حکومت میں بدعنوانی کی کمی کے بارے میں گفتگو کی جا رہی ہیں لیکن تاحال ایسی کوئی اصلاحات پیش نہیں کی گئیں۔ نریندر مودی کے کچھ اقدامات دراصل پرانے اقدامات جیسے دکھائی دے رہے ہیں۔ بنیادوں میں موجود خامیوں کو دور کرنے میں ناکامی سے تمام اقدامات میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
نریندر مودی 100 سمارٹ شہر بنانا چاہتے ہیں، لیکن بیشتر بڑے شہر مصائب کا گڑھ بن چکے ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں موبائل ٹیلی فون نیٹ ورک صحیح کام نہیں کرتا وہاں سب لوگ نہیں جانتے کہ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کا کیا مطلب ہے۔
یہ بھی واضح نہیں ہے کہ غیر ہنر مند اور غیرتعلیم یافتہ افراد کے ذریعے نریندر مودی ’میڈ ان انڈیا‘ پروگرام کے تحت پیداوار کیسے بڑھا سکتے ہیں۔ نریندر مودی بظاہر نچلی سطح پر بدعنوانی روکنے میں ناکام رہے ہیں جس سے غریب آدمی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔
صحافی جیمز کرابٹری کے مطابق ’طاقتور اور مضموم مقاصد میں مداخلت سے نارضامندی کا اظہار‘ ہے کیونکہ سنہ 2019 کے انتخابات جیتنے کے لیے بے بہا سرمایہ درکار ہو گا۔
واشنگٹن ڈی سی میں کارنیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیش کے میلان ویشنوو کہتے ہیں: ’موجودہ حکومت اپنے پیش رفت میں زیادہ فعال رہی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب سب کچھ کہا اور کیا جا چکا ہے، یہ واضح نہیں ہے کہ جیسا سمجھا جارہا تھا یہ کام اس سے کہیں زیادہ ہے۔‘
ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی کی توجہ طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے پر موکوز ہے۔ اگر انھوں نے مذہبی تشدد جیسا کہ گرجا گھروں پر حملے اور انتہاپسند رہنماؤں اور ہندو گروہوں کی جانب سے غیرذمہ دارانہ بیان بازی کو رکنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
ایک اور تشویش ناک پہلو نریندر مودی اور ان کی جماعت کا تنقید پر عدم برداشت کا رویہ ہے۔ تجزیہ نگار ٹی این نینن کہتے ہیں وہ ’تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے ساتھ نہیں ہو، درمیان کی کوئی صورت حال نہیں ہے‘ پر عمل پیرا ہیں، اس رویے کا انجام سول سوسائٹی کے کارکنوں پر دھاوا بولنے اور میڈیا سے دوشمنی مول لینے پر ہوا۔
نریندر مودی کا مسئلہ یہ ہے کہ جو آسائش سابقہ حکمرانوں کے پاس تھی وہ ان کے پاس نہیں ہے۔ انھوں نے بھارت میں تبدیلی کی بڑی امیدیں دلائی ہیں، یہ توقعات ان کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں۔
کوئی ایک بھی اہم مسئلے کو حل کرنے میں ناکامی ان کے لیے بھاری نقصان کا باعث ہو گی۔ ہر سال تقریباً ایک کروڑ تین لاکھ بھارتی شہریوں کو ملازمت کی تلاش ہوتی ہے، اور اگر نریندر مودی ان کو ملازمت نہ دے سکے، تو وہ ووٹ نہیں حاصل کر سکیں گے۔ اب یہ وہ بھارت نہیں رہا جو صبر کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔ نریندر مودی کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے اور انھیں مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔







