’وقت آ گیا ہے کہ ہر تقریر سے پہلے۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے تارکین وطن کے بارے میں بیان پر بھارت میں خاصا شور مچا ہے۔
بھارتی وزیرِ اعظم نے یہ بیان اپنے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران دیا۔
پیر کو جنوبی کوریا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے ان بھارتیوں کے بارے میں تبصرہ کیا جو بھارت چھوڑ کر دیگر ممالک میں بس گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’لوگ سوچتے ہیں کہ انھوں نے پچھلے جنم میں کیا گناہ سرزد کیا کہ وہ اس جنم میں بھارت میں پیدا ہوئے۔ وہ سوچتے ہیں کہ یہ کیا ملک ہے، کس قسم کی حکومت ہے اور کس قسم کے لوگ ہیں۔ کچھ افراد نے دیگر ممالک کے لیے بھارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔‘
بھارتی وزیر اعظم نے یہ بات ملک کے انفراسٹرکچر اور تجارت کے لیے سازگار ماحول بنانے کے لیے کی تاکہ لوگ بھارت چھوڑ کر نہ جائیں۔
بھارتی وزیر اعظم اپنی تقاریر اور بیانات میں بھارت میں مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس سے قبل بھی انھوں نے ملک میں جنسی تشدد کے بارے میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہمارا سر شرم سے جھک گیا ہے۔‘
تاہم تارکین وطن کے بارے میں دیے گئے بیان سے کچھ لوگ نالاں ہیں اور انھوں نے ٹوئٹر پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اور اسی وجہ سے منگل کو #ModiInsultsIndia کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا۔
ہرنت سنگھ نے ٹویٹ کیا: ’وقت آ گیا ہے کہ ہر تقریر سے پہلے یہ کہا جائے کہ یہ خیالات ذاتی ہیں اور بھارتی اس سے متفق نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح منصور علی نے لکھا: ’ہمارے منتخب کردہ وزیر اعظم ہمارے پیسوں پر غیر ملکی دورے کرتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ ہم اپنے والدین اور آبا و اجداد پر کتنے شرمندہ ہیں۔‘
ٹوئٹر کی ایک اور صارف پریرنا ملہوتڑا کا کہنا ہے: ’پچھلے ایک سال میں مودی نے جتنا کم وقت بھارت میں گزارا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ بھارتی ہونے پر شرمندہ ہیں۔‘
نریندر مودی نے چین، منگولیا اور جنوبی کوریا کا دورہ منگل کو ختم کیا اور ملک واپس پہنچے۔
ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ملک واپسی پر #ModiInsultsIndia کا ہیش ٹیگ دیکھنے کی امید نہیں کر رہے ہوں گے۔







