’ٹیلی کام کمپنیاں خدمات میں بہتری لائیں یا گھر جائیں‘

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
بھارت میں ٹیلی مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے ٹیلی کام کمپنیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی خدمات کو بہتر بنائيں یا پھر کوئی دوسرا کاروبار کریں۔
انھوں نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں یہ واضح کیا کہ اچھی خدمات دینا ان کمپنیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
پرساد نے بھارت میں موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’بیان بازی سے کام نہیں چلے گا۔ عوام کو اچھی خدمات فراہم کرنا ان کمپنیوں کے حق میں ہے اور ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے۔‘
خیال رہے کہ ملک کی 125 کروڑ کی آبادی میں تقریبا 98 کروڑ موبائل فون اور 20 کروڑ انٹرنیٹ کنکشن ہیں۔
بھارت ٹیلی کام صارفین کی تعداد کے حساب سے دنیا کے بڑے بازاروں میں سے ایک ہے۔ لیکن خدمات اطمینان بخش نہیں ہیں۔
ٹیلی کام کمپنیوں کا کہنا ہے کہ لائسنس اور ٹیکس کی شرحیں بہت زیادہ ہیں اور اس وجہ سے اس کاروبار میں انھیں مناسب فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہVamdev Tewari
مرکزی وزیر مواصلات نے اس شکایت کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کہا: ’ان کمپنیوں کی سہ ماہی رپورٹ آتی ہے، اس میں وہ منافع دکھاتے ہیں یا نہیں؟ سپیکٹرم کی بولی لگتی ہے تو وہ بولی لگانے آگے کیوں آتے ہیں؟‘
جو کمپنیاں خسارے کی بات کر رہی ہیں، ان کے لیے روی شنکر پرساد کا پیغام واضح ہے کہ ’اگر آپ کو یہ کاروبار مناسب نہیں لگتا ہے تو آپ باہر جائیے، دوسرے لوگ آئیں گے۔ یہ بات درست نہیں کہ آپ اپنی کمزوریاں دور نہیں کریں اور دوسروں پر الزام لگائيں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ سال پہلے تک ٹیلی کام کو ہندوستان کی کامیاب ترین صنعتوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ اس میں تیزی سے توسیع ہو رہی تھی اور کمپنیوں کی کمائی آسمان چھو رہی تھی لیکن ان دنوں کمپنیاں کہتی ہیں کہ ان کی کمائی بہت کم ہوگئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس کا براہ راست اثر صارفین پر نظر آ رہا ہے۔ وہ موبائل فون پر بات کر رہے ہوتے ہیں اور اچانک لائن ڈراپ ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات تو رابطہ ہی نہیں ہو پاتا۔
وہ اپنے فون یا کمپیوٹر پر کوئی ای میل لکھ رہے ہوتے ہیں یا کسی ویب سائٹ پر کچھ پڑھ رہے ہوتے ہیں اور اچانک انٹرنیٹ کام کرنا بند کر دیتا ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوں کے مطابق، حکومت سپیکٹرم کے لائسنس کی شرح کافی بڑھا کر رکھتی ہے۔ انھیں بینکوں سے قرض لینا پڑتا ہے۔ لیکن حکومت کہتی ہے یہ ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے محض بہانہ ہے۔
روی شنکر پرساد کہتے ہیں: ’اگر شرح اونچی ہے تو اسپیکٹرم کی نیلامی میں وہ آگے بڑھ کر حصہ کیوں لیتے ہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہAgencies
بینکوں سے قرض لینے کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’دنیا کی کون سی کمپنی بینک سے قرض نہیں لیتی؟ یہ تو جدید کاروبار کا ایک مسلمہ بزنس ماڈل ہے۔‘
حال میں حکومت ہند نے سپیکٹرم کی نیلامی کی تھی، جس سے اسے ایک لاکھ دس ہزار کروڑ روپے کی آمدن ہوئی۔
پرساد کہتے ہیں: ’وہ سپیکٹرم مانگ رہے تھے، ہم نے دیا۔ اب ان کمپنیوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو اچھی خدمات فراہم کریں۔‘







