بھارت کی شرح نمو حقیقی یا من گھڑت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی، دہلی
گزشتہ ہفتے بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ملک کی شرح نمو کے اعداد و شمار جاری کیے جن سے دنیا کے دوسرے ملکوں کو جلن ہو سکتی ہے۔
ایشیا کی تیسری بڑی معیشت میں اس سال کی پہلی سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کی شرح نمو سات اعشاریہ پانچ فیصد رہی۔ جو گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی اور توقعات سے زیادہ تھی۔
توقع تھی کہ اقتصادی ترقی کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں اس عرصے کے دوران سات اعشاریہ تین فیصد رہے گی۔
لیکن اقتصادی ترقی کے تازہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بھارتی نجی ادارے اور کمپنیاں دو سال کے دوران کمزور ترین سطح پر ہیں۔ آمدنی بڑھ نہیں رہی اور منافعے کی شرح کم ہو رہی ہے۔
بڑے صنعتی ادارے جن میں انفراسٹرکچر اور آٹو موبائلز کے شعبے سے تعلق رکھنے والی صنعتیں بھی شامل ہیں مشکلات کا شکار ہیں۔
بزنس سٹینڈرڈ نیوز پیپر کے مطابق تاریخی اعتبار سے جب بھارت کی شرح نمو سات اعشاریہ پانچ فیصد رہی ہو اور قیمتیں بڑھ نہ رہی ہوں تو کمپنیوں کے منافعے اوسطً چودہ فیصد تک ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ لہذا ملکی معیشت کس طرح اس شرح سے بڑھ سکتی ہے جب نجی شعبے میں ترقی کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔
بھارت کی حکومت نے شرح ترقی کا تعین کرنے کے لیے نیا طریقۂ کار اختیار کرنے کے اعلان کے ایک ماہ بعد سات اعشاریہ پانچ فیصد کی شرح نمو ظاہر کر کے اقتصادی ماہرین کو حیرات میں ڈال دیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار نے اس طریقۂ کار کے بارے میں نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
چند ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت شرح نمو بڑھا کر اپنے مالیاتی خصارے کے اہداف کو پورا کرنا چاہتی ہے اور معاشی لحاظ سے ملک کی ایک خشگوار تصویر پیش کرنا چاہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آر ناگراج جیسے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی اعداد و شمار معیشت کے دوسرے شعبوں کے اشاریوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جن میں بنیکوں سے جاری کیے جانے والے قرضوں، صعنتی پیداوار جیسے شعبے کی کارکردگی شامل ہے۔
حتیٰ کہ حکومت کے اپنے اقتصادی سروے میں شرح نمو کے تازہ اعداد و شمار سمجھ سے بالا تر تھے جب ان کا موازنہ قومی بچت، سرمایہ کاری اور برآمدات سے کیا گیا۔
بھارت کی حکومت نے شرح نمو کا حساب لگانے کے نئے طریقے کار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نجی شعبے میں ترقی کی شرح نکالنے کے لیے اب بہتر ڈیٹا استعمال کر رہی ہے۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ اس نے پانچ لاکھ ایسی کمپنیوں کے اعداد و شمار بھی حاصل کیے ہیں جن کہ اعداد و شمار پہلے شامل نہیں کیے جاتے تھے۔
بھارتی معیشت ایک بہت پیچیدہ چیز ہے۔ یہاں پر ایک پھلتی پھولتی زیر زمین یا کالی معیشت بھی ہے جو ٹیکس چوری کرتی ہے اور بھارت کے نوے فیصد مزدور اور کارکن چھوٹے اداروں سے منسلک ہیں جن میں کارکنوں کی تعداد دس سے زیادہ نہیں ہوتی۔
اقتصادی ماہر پرنجوائی گوہا تھاکورتا کہتے ہیں کہ نیا طریقہ کار بہت پیچیدہ ہے۔ ابھی تک شرح نمو معیشت کے دوسرے شعبوں میں ظاہر نہیں ہوئی۔ لہذا یا تو حکومت غلط اندازے لگاتی رہی ہے یا پھر حقیقتی ترقی کی شرح کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔
معیشت دان ارویند ورمانی نے بھارتی شرح نمو کو ایک گورکھ دھندا قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وضاحت بھارتی کی معیشت کی دوہری ہیت سے کی جا سکتی ہے۔ انھوں کہا کہ ایک طرف تو سرکاری شعبے میں منظم کمپنایاں ہیں اور دوسری طرف غیر رسمی اور غیر منظم شعبے ہیں جو مقامی ضروریات کو پورا کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر ورمانی کا کہنا ہے کہ عالمی مانگ میں کمی سے باضابطہ شعبوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بھارت میں کچھ کمپنیاں جو عالمی معیشت سے منسلک ہیں ان پر اثر پڑا ہے اور ان کی شرح نمو کم رہی ہے لیکن بھارت کی معیشت پر اس کا اثر ہونا ضروری نہیں۔







