سوپور: مواصلاتی ٹاور کے لیے زمین دینے والا شخص قتل

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 2003 تک موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں تھی

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 2003 تک موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں تھی
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں دو روز میں مواصلاتی تجارت سے وابستہ دو شہریوں کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور خوف کی فضا ہے۔

ہلاکت کا تازہ واقعہ سوپور کے ڈورو گاؤں میں منگل کی شب اُس وقت پیش آیا جب مسلح افراد نے 60 سالہ غلام حسن کے گھر میں داخل ہو کر انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

غلام حسن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ الجہاد نامی مسلح گروہ کا سابقہ کارکن تھا، لیکن اب اس نے گھر کی زمین ایک مواصلاتی کمپنی کو ٹاور کھڑا کرنے کے لیے کرائے پر دے رکھی تھی۔

اس سے قبل پیر کی صبح مسلح افراد نے سوپور بازار میں ’اقرا ٹیلکام‘ نامی دکان میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس سے غلام محمد نامی نوجوان ہلاک اور دیگر دو زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق اتوار کی شب سوپور میں ہی ایک موبائل فون ٹاور پر دو دستی بم پھینکے گئے، تاہم ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

چند روز پہلے ہی قصبے میں ٹیل کام کمپنیوں کے بارے میں دھمکی آمیز پیغامات پر مشتمل پراسرار پوسٹر بھی دکھائی دیے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دھمکی آمیز پوسٹر غیر معروف گروپ ’لشکرِ اسلام‘ کے ہیں اور ان میں تمام ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی سرگرمیاں فوری طور بند کردیں ورنہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

’لشکر اسلام‘ نے پوسٹرز پر اس پابندی کے جواز میں کہا ہے کہ ’بھارتی حکومت نے ان ہی کمپنیوں کے ذریعہ مواصلات کا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے جس کی وجہ سے بڑے کمانڈر اور ساتھی فوجی کارروائی کا شکار ہوئے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

قتل کی ان دو حالیہ وارداتوں کے بعد سوپور میں حالات کشیدہ ہیں جبکہ ٹیلکام کمپنیوں کی نمائندہ دکانوں سے اشتہاری تختیاں ہٹا لی گئی ہیں جبکہ اور موبائل فون سے متعلق ریچارج، سم کارڑ اور دوسری پرچون سہولیات بھی معطل ہوگئی ہیں۔

ادھر سخت گیر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ان حملوں کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔

ان حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ قتل اور خونریزی کے ایسے واقعات کے پیچھے بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے، ’تاکہ یہاں کی تحریک کو بدنام کیا جائے اور لوگوں میں بدظنی پھیلائی جائے۔‘

واضح رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 2003 تک موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں تھی۔ گذشتہ 12 سال میں ایئرٹیل، ایئر سیل، ریلائنس، ووڈا فون اور دیگر کمپنیوں نے ایک کروڑ 25 لاکھ آبادی والے جموں کشمیر میں موبائل فون کے ٹاوروں کا جال بچھا دیا ہے۔

مواصلاتی کمپنی ایئر ٹیل کے سب سے زیادہ یعنی چھ لاکھ صارفین ہیں۔

ٹیلی کام کمپنیوں کے نشریاتی مشیر یاسر عرفات کا کہنا ہے کہ ’ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ تنازع محض سوپور تک محدود ہے یا واقعی پورے کشمیر میں سرگرم کمپنیوں کو خطرہ ہے۔ لیکن اس واقعے نے بہرحال کمپنیوں کے معمول کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔‘