کشمیری لڑکے کی ہلاکت پر دو پولیس اہلکار گرفتار

 وادی میں علیحدگی پسند رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران بھارتی پولیس کے اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن وادی میں علیحدگی پسند رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران بھارتی پولیس کے اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی تھی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کی فائرنگ سے ایک لڑکے کی ہلاکت کے خلاف علیحدگی پسندوں کی اپیل پر اتوار کو ہڑتال کی جا رہی ہے۔

ہڑتال کی وجہ سے وادی میں نظامِ زندگی متاثر ہوا ہے اور حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

ادھر پولیس نے طالبعلم کی ہلاکت کے معاملے میں دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔

اتوار کو ترال میں مقامی افراد نے فوج کے ساتھ مبینہ تصادم میں نوجوانوں کی موت، علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی گرفتاری اور سنیچر کو کو ناربل میں پولیس فائرنگ میں نوجوان کی موت پر مظاہرہ کیا ہے۔

ترال میں سنیچر کو رات گئے تک مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا تھا اور پولیس کے مطابق ان مظاہروں میں 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سنیچر کی صبح وادی میں علیحدگی پسند رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران بھارتی پولیس کے اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے تین نوجوان زخمی ہوگئے تھے۔

تینوں نوجوانوں کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں انِ میں شامل 17 سالہ سہیل صوفی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

محبوبہ مفتی کے مطابق پولیس فائرنگ میں طالب علم کی موت کی مکمل جانچ پڑتال ہوگی اور انصاف ہوگا

،تصویر کا ذریعہHaziq Qadri

،تصویر کا کیپشنمحبوبہ مفتی کے مطابق پولیس فائرنگ میں طالب علم کی موت کی مکمل جانچ پڑتال ہوگی اور انصاف ہوگا

پولیس فائرنگ سے سہیل صوفي کی ہلاکت کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس افسر منظور احمد کے کہنے پر پولیس اہلکار جاوید احمد نے مظاہرین پر گولی چلائی تھی۔

اس واقعے کے بعد مقامی تھانے کے ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

جموں کشمیر کی مخلوط حکومت میں شامل جماعت پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ پولیس فائرنگ میں طالب علم کی موت کی مکمل جانچ پڑتال ہوگی اور انصاف ہوگا۔

وہیں ھارتیہ جنتا پارٹی نے طالب علم کی موت پر دکھ ظاہر کرتے ہوئے علیحدگی پسند لیڈروں کو اس کے لیے ذمہ دار قرار دیا ہے۔ پارٹی کے رکن اسمبلی روندر رینا نے کہا،’اس واقعے کے لیے علیحدگی پسند لیڈر ہی زیادہ ذمہ دار ہیں۔‘

علیحدگی پسند رہنماؤں کی اپیل پر اتوار کو بڈگام میں مکمل ہڑتال ہے جبکہ علیحدگی پسندوں نے لوگوں سے سری نگر کے لال چوک پر جمع ہونے کے لیے کہا ہے۔

اس اعلان کے بعد مظاہرین سے نمٹنے کے لیے پولیس نے جگہ جگہ ناکہ بندي کر دی ہے جبکہ تمام اہم علیحدگی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو نظر بند بھی کر دیا گیا ہے۔

وادی کشمیر میں لوگوں نے انٹرنیٹ کی خدمات کے متاثر ہونے کی بھی شکایت کی ہے تاہم انٹرنیٹ سروس کی بندش کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔