پنڈتوں کے لیے’سیف زون‘ کے خلاف کشمیر میں ہڑتال

کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے علیحدہ کالونی بنانے کے لیے زمین وقف کی جائے جس پر عوامی اور سیاسی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے علیحدہ کالونی بنانے کے لیے زمین وقف کی جائے جس پر عوامی اور سیاسی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہندو پنڈتوں کو علیحدہ کالونیوں میں بسانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سلسلے میں وادی میں علیحدگی پسندوں کی اپیل پر سنیچر کو مکمل ہڑتال کی گئی ہے جس کی وجہ سے نظام ِزندگی معطل ہو کر رہ گیا۔

گذشتہ ہفتے حکومت ہند نے کشمیر کی انتظامیہ سے کہا تھا کہ 25 سال قبل وادی چھوڑ جانے والے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے علیحدہ کالونی بنانے کے لیے زمین وقف کی جائے۔

اس حکم پر عوامی اور سیاسی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور جمعے اور سنیچر کو مظاہرے ہوئے جس کے دوران پولیس نے کئی علیحدگی پسند رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وادی میں مذہبی عدم رواداری کو جنم دے گا اور ان ہندوؤں کو واپس آ کر انھی علاقوں میں رہنا چاہیے جہاں سے وہ نقل مکانی کر کے گئے تھے۔

اس حکومتی فیصلے کے خلاف مظاہروں کی کال لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک اور حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی نے دی تھی اور جمعے کو مظاہروں کے دوران پولیس نے یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار بھی کر لیا تھا۔

مظاہروں کے دوران پولیس نے یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا

،تصویر کا ذریعہHAZIQ QADRI

،تصویر کا کیپشنمظاہروں کے دوران پولیس نے یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا

وزیراعلی مفتی محمد سعید نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی فقظ سماجی بحالی ہوگی لیکن حکومت ہند نے اس فیصلے کا اعادہ کرکے کہا ہے کہ بی جے پی کشمیری ہندوں کے لیے علیحدہ ہوم لینڈ کے وعدے کی پابند ہے۔

لال چوک میں ہونے والے مظاہروں میں بعض مقامی کشمیری پنڈت اور پجاری بھی شریک ہوئے۔ واضح رہے 1990 میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی جب متعدد پنڈت شہریوں کو قتل کیا گیا تو پنڈت آبادی منجملہ وادی چھوڑ کر جموں اور بھارت کے دوسرے شہروں میں مقیم ہوگئی لیکن دس ہزار پنڈت شہری یہیں مقیم رہے ۔ ان پنڈت شہریوں کے مکان آج بھی مسلمانوں کے ہمراہ ہیں اور ان کی تجارت بھی جاری ہے۔

حریت کانفرنس گ کے رہنما سید علی گیلانی، لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم مسلح رہنما سید صلاح الدین نے پنڈتوں کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن انہیں فوجی حصار اور علیحدہ کالونیوں میں بسانے کے سرکاری اعلان کی مخالفت کی ہے۔

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پنڈت کشمیر کے سماج کا اہم حصہ ہیں اور ان کی آبادکاری کے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ انہیں واپس اپنے گھروں میں بلایا جائے۔

سرکاری اعلان سے پیدا شدہ کشیدگی کے بعد وزیراعلی مفتی محمد سعید نے واضح کیا ہے کہ پنڈتوں کی محض گھر واپسی ہوگی اور انہیں علیحدہ کالونیوں میں نہیں بسایا جائے گا لیکن بھارت کے وزیرداخلہ اور حکمران بی جے پی نے کہا ہے کہ پنڈتوں کے لیے علیحدہ ہوم لینڈ کے وعدے پر وہ پابند ہیں۔

علیحدگی پسندوں نے اس فیصلے کے خلاف سنیچر کو ہڑتال کی کال دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہHAZIQ QADRI

،تصویر کا کیپشنعلیحدگی پسندوں نے اس فیصلے کے خلاف سنیچر کو ہڑتال کی کال دی ہے۔