قیدیوں کی رہائی: کشمیری حکومت میں پھر تناؤ

 اقتدار سنبھالتے ہی مفتی سعید نے جموں کشمیر پولیس کے سربراہ کے راجندرا کو ہدایت دی تھی کہ جن لوگوں کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات نہیں ہیں انھیں رہا کیا جائے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشن اقتدار سنبھالتے ہی مفتی سعید نے جموں کشمیر پولیس کے سربراہ کے راجندرا کو ہدایت دی تھی کہ جن لوگوں کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات نہیں ہیں انھیں رہا کیا جائے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انھیں ساڑھے چار سال سے قید علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم بٹ کو رہا کرنے کے احکامات مل چکے ہیں۔

چوالیس سالہ مسرت عالم پانچ سال قبل کشمیر میں چلنے والی غیر مسلح احتجاجی تحریک کے منصوبہ ساز سمجھے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ دو ہزار دس کے موسمِ گرما میں فوج نے فرضی جھڑپ کے دوران تین عام مزدوروں کو شمالی کشمیر کے مژھل گاوں میں ہلاک کردیا تھا جسکے بعد یہاں ہمہ گیر احتجاجی لہر چلی تھی۔ احتجاجی مظاہرین پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ میں سو سے زائد نوجوان ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس نے اُن دنوں دعوی کیاتھا کہ مسرت عالم ہی نوجوانوں کو مظاہروں کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کا پتہ دینے والے کے لیے دس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

مسرت عالم کو دو ہزار دس میں ہی کئی ماہ کی روپوشی کے بعد سرینگر سے گرفتار کیا گیا اور ان پر بدامنی پھیلانے، پولیس کے خلاف نوجوانوں کو اکسانے اور امن و قانون میں رخنہ ڈالنے جیسے الزامات کے تحت کئی مقدمات درج کیے گئے۔

مسرت عالم کے وکیل شبیر احمد بٹ نے بی بی سی کو بتایا ’مسرت پر لگائے گئے تمام الزامات دو سال پہلے ہی عدالت نے خارج کر دیے تھے۔ حکومت نے انتخابات کے دوران انہیں احتیاطی حراست میں رکھنے کے لیے عدالت سے وقت طلب کیا اور وہ مدت بھی ختم ہوچکی تھی۔ وہ تو اب غیرقانونی حراست میں تھے۔‘

مسرت عالم ماضی میں مسلح گروپ حزب اللہ کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اور مسلح سرگرمیوں کے لیے وہ طویل عرصہ کی قید کاٹ چکے ہیں۔ انہوں نے پندرہ سال قبل رہائی کے فوراً بعد غیر مسلح علیحدگی پسند گروپ ’مسلم لیگ جموں کشمیر‘ میں شمولیت کرلی تھی۔

واضح رہے یکم مارچ کو اقتدار سنبھالتے ہی مفتی سعید نے جموں کشمیر پولیس کے سربراہ کے راجندرا کو ہدایت دی تھی کہ جن لوگوں کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات نہیں ہیں انھیں رہا کیا جائے۔

اس پر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے کہا کہ ’وزیراعلیٰ قیدیوں کی درجہ بندی کر کے کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔ دو ہزار کشمیری مختلف جیلوں میں قید ہیں، چاہے کوئی مسلح رہنما ہو یا حریت کانفرنس کا کارکن سبھی کشمیری عالمی قوانین کی رو سے سیاسی قیدی ہیں۔‘

اس دوران اقتدار میں مفتی سعید کی شریک جماعت بی جے پی اس فیصلہ پر ناراض ہوگئی ہے۔ بی جے پی کے ترجمان اشوک کول نے بتایا ’ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی نہ ہمیں اعتماد میں لیا گیا۔ وزیراعلیٰ کو حساس معاملوں میں یکطرفہ فیصلے کرنے کا حق نہیں ہے۔‘

اس سے قبل جمعہ کو لبریشن فرنٹ کے رہنما نے مفتی سعید کے ہی حلقہ انتخابات اننت ناگ میں ایک بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ مسٹر ملک دیگر علیحدگی پسندوں کی طرح انتخابات کے دوران جیل میں تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مفتی سعید کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے بارے میں نرم رویہ اپنا کر بی جے پی کے ساتھ شراکت اقتدار کے معاملہ کو پسِ پشت ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

صحافی شفاعت فاروق کہتے ہیں ’پہلے تو یہ بحث تھی کہ بی جے پی کے ساتھ سیاسی اتحاد جائز ہے یا ناجائز۔ لیکن مفتی نے پہلے ہی دن انتخابات کے لیے پاکستان، مسلح گروپوں اور حریت کانفرنس کے بالواسط تعاون کی تعریف کی اور اب وہ قیدیوں کی رہائی کا حکم دے رہے ہیں۔ یہ واقعی عمرعبداللہ کے لیےلمحہ فکریہ ہے۔‘

مسرت عالم پر کوئی بھی الزام عدالت میں ثابت نہیں ہوا تھا ، لیکن عمرعبداللہ کی حکومت نے انھیں رہا نہیں کیا اور نہ ہی علیحدگی پسندوں کی نقل وحرکت پر پابندی ہٹائی۔ اس پر اکثر عوامی حلقوں کو تعجب ہے۔