کشمیر: نئی حکومت زخموں پر مرہم لگا سکے گی؟

حلفِ وفاداری

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشننظریاتی اختلافات کے باوجود بی جے پی اور پی ڈی پی اتحاد سے بہت توقعات وابستہ کی گئی ہیں

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور مقامی سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یعنی پی ڈی پی کا اتحاد گزشتہ پچیس برسوں میں کشمیر ہونے والی سب سے پر امید اور مثبت پیش رفت ہے۔

کشمیر میں 1989 میں شروع ہونے والی ہند مخالف علیحدگي پسند تحریک کی شدت میں گزشتہ دس برسوں میں کمی آئی ہے لیکن وادی میں حالات ابھی بھی نازک ہیں۔

انڈیا کے زیر اتنطام جموں و کشمیر میں اس متنازعہ خطے کی اٹھارہ ملین کی کل آبادی میں سے تقریباً تیرہ ملین افراد رہائش پذیر ہیں باقی کی آبادی لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں رہتی ہے۔

کشمیر تنازعہ کے تین اہم پہلو ہیں: پہلا یہ کہ انڈیا اور پاکستان دونوں اس خطے پر اپنا اپنا دعویٰ رکھتے ہیں ۔ دوسرا یہ کہ بیشتر کشمیری عوام انڈیا سے خفا ہیں اور وہ اپنے آپ کو انڈیا کا حصہ نہیں مانتے۔ تیسرا یہ کہ مسلم اکثریت والی کشمیر وادی اور ہندو اکثریت والے جموں خطے کے درمیان آپس میں اختلافات ہیں۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کا اتحاد دوسرے اور تیسرے نمبر کے پہلوؤں پر توجہ دینے اور ان مسائل پر مرحم لگانے کی قوت رکھتا ہے۔

کاغذوں پر دیکھا جائے تو یہ دونوں پارٹیاں نظریاتی طور پر بالکل جدا ہیں اور دیکھنے میں دونوں پارٹیوں کا اتحاد ہونا ایک ناممکن سے بات لگتی ہے۔

سنہ 1951 میں وجود میں آنے کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر کے مسئلے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے حق میں ہے کیونکہ یہ آرٹیکل کشمیر کو خصوصی خود مختار خطے کی حیثیت کی اجازت دیتا ہے۔

پی ڈی پی اس بات کو قبول کرتی ہے کہ کشمیر انڈیا کا حصہ ہے لیکن اس نے اپنی سیاست کی بنیاد ہمیشہ اس بات پر رکھی ہے کہ وہ وادی کے عوام کی امیدوں اور مسائل کی نمائندگی کرتی ہے۔

پی ڈی پی نے انسانی حقوق کی پامالی کی ہمیشہ بات کی ہے اور اس کے علاوہ اس نے کشمیر میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات والے قانون ’سپیشل آرمڈ فورسز پاور ایکٹ‘ کے خلاف بھی آواز اٹھائی ہے۔ اس ایکٹ کے تحت یہاں تعینات فوج کو شک کی بنا پر فائرنگ اور خانہ تلاشی کے لامحدود اختیارات حاصل ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کشمیر کی آزادی کے حق میں سرگرم گروہوں اور پاکستان کی حمایت والے گروہوں اور خود پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کرتی رہی ہے۔

محبوبہ مفتی

،تصویر کا ذریعہPDP PRO

،تصویر کا کیپشنپی ڈی پی کی جیت میں اس کی رہنما محبوبہ مفتی کی انتخابی مہم کا بہت ہاتھ تھا

پی ڈی پی کے یہ سارے مطالبات بی جے پی کے کشمیر سے متعلق نظریات کے برعکس ہیں۔

گزشتہ مئی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔ 1984 کے بعد یہ پہلی بار ہے جب کسی ایک پارٹی نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہو۔ دسمبر میں کشمیر میں ریاستی الیکشن میں 65 فی صد ووٹنگ ہوئی اور پی ڈی پی 28 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی، بھارتیہ جنتا پارٹی 25 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ دو مہینوں کی مسلسل بات چیت اور سمجھوتے کے بعد پی ڈی پی اور بی جے پی نے کشمیر میں حکومت تشکیل دی ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر دو بالکل مختلف نظریات والی پارٹیوں کے اتحاد کو مثبت پیش رفت قرار دیا گيا ہے۔

آرٹیکل 370 کے بارے میں دونوں پارٹیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کہا گیا کہ ’دونوں پارٹیوں کے نظریاتی اختلافات کے باوجود کشمیر کے مسائل کا ہر حل آئین کے مطابق کیا جائے گا پھر چاہے وہ خود مختاری کا مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔‘

وہیں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات والے قانون ’سپشل آرمڈ فورس ایکٹ‘ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ حالانکہ اس مسئلے پر دونوں پارٹیوں کے تاریخی نظریاتی اختلافات ہیں لیکن چونکہ کشمیر میں صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے اس لیے سیکورٹی کا مکمل جائرہ لینے کے بعد اس بات کہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ریاست کے کن علاقوں میں فوج سے یہ اختیارات واپس لے لیا جائے اور ایکٹ کو ہٹا لیا جائے۔

ان متنازعہ مسائل کے علاوہ یہ معاہدہ کشمیر کے لیے بہت کچھ کرنے کا عہد کرتا ہے۔ ’اس اتحاد کا مقصد کشمیر اور سرحد پار کے عوام میں خود اعتمادی پیدا کرنا ہے۔‘

معاہدے میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے وادی میں موجود اہم گروہوں سے بات چیت کرے گی اور پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرے گی۔

اس کے علاوہ معاہدے میں کہا گیا کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب آپسی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سفر، تجارت اور کاروبار کو فروغ دیا جائے گا۔

اس ماہ جب کشمیر میں نئی حکومت نے حلف اٹھایا تھا وہاں میز پر انڈیا اور کشمیر دونوں کے پرچم رکھےگئے۔ ہندو نظریاتی تنظیموں اور لوگوں کو ہمیشہ سے اس بات پر اعتراض تھا کہ کشمیر کا علیحدہ اپنا پرچم کیوں ہے؟

(سمانترا بوس لندن سکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں انٹرنیشنل کمپیریٹو پولیٹکس کے پروفیسر ہیں)