کشمیر میں فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

شاہراہ کا یہ حصہ سلامتی کے حوالے سے نہایت حساس ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشاہراہ کا یہ حصہ سلامتی کے حوالے سے نہایت حساس ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ بجبہاڈہ میں پیر کو فائرنگ کے ایک واقعے میں بھارت کے نیم فوجی دستے کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر اوم کار ناتھ اور کانسٹیبل تلک راج مارے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے سری نگرجموں شاہراہ پر سنگم کے قریب فوجی قافلے کی حفاظت پر مامور مرکزی پولیس فورس کے ایک گشتی دستے پر فائرنگ کی گئی۔

فائرنگ کے اس واقعے میں ایک افسر سمیت دو اہلکار مارے گئے۔

پولیس کے مطابق دونوں اہلکاروں کے ہتھیار بھی چھین لیے گئے تھے تاہم بعد میں کانسٹیبل تلک راج کی رائفل قریبی نالے سے برآمد ہوئی۔

تین سو کلومیٹر سری نگر جموں شاہراہ میں سے ایک سو کلومیٹر وادی کشمیر میں ہے اور شاہراہ کا یہ حصہ سکیورٹی کے حوالے سے نہایت حساس ہے۔

اسی شاہراہ پر بھارت کی چند بڑی فوجی تنصیبات میں بادامی باغ کی چھاؤنی بھی ہے، جہاں بھارتی فوج کی 15 ویں کور مقیم ہے۔

بھارت کے مختلف علاقوں سے فوجی یا نیم فوجی اہلکاروں کے دستے کشمیر میں تعیناتی کے لیے بسوں اور دوسری گاڑیوں میں اسی راستے سے کشمیر آتے ہیں۔

اس راستہ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہاں سے بھارت کے ہندو عقیدت مند جنوبی کشمیر کے پہلگام قصبہ سے پہاڑی راستہ طے کر کے امرناتھ گھپا کی یاترا کرتے ہیں۔

واضح رہے جنوبی کشمیر کے ہی شوپیان ضلع میں بھی سنیچر کو نامعلوم افراد نے پولیس کے ایک تفتیشی دستے پر دستی بم پھینکا، جو سڑک پر پھٹ گیا تھا۔ اس دھماکے کی زد میں آ کر خواتین اور بچوں سمیت 16 راہ گیر زخمی ہوئے تھے۔

گذشتہ ماہ بھی شوپیان میں ہی ایک مسلح حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس سال مسلح حملوں کے واقعات جنوبی کشمیر میں بڑھ گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق گذشتہ برس تک مسلح حملے شمالی کشمیر میں ہوتے تھے کیونکہ شمالی کشمیر کے سبھی اضلاع پاکستان کے ساتھ ملحقہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہیں۔

بھارت کے مختلف علاقوں سے فوجی یا نیم فوجی اہلکاروں کے دستے کشمیر میں تعیناتی کے لئے بسوں اور دوسری گاڑیوں میں اسی راستے سے کشمیر آتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت کے مختلف علاقوں سے فوجی یا نیم فوجی اہلکاروں کے دستے کشمیر میں تعیناتی کے لئے بسوں اور دوسری گاڑیوں میں اسی راستے سے کشمیر آتے ہیں

کشمیری میں مسلح تشدد میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب یہاں کی نئی حکومت سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بالی وڈ کے فلم ستاروں اور فلم سازوں کو سرکاری مہمان کے طور پر کشمیر مدعو کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے خود ممبئی میں تمام فلم سازوں اور ستاروں کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا۔

واشو بھگنانی کی فلم ’ویلکم ٹو کراچی‘ کا پروموش بھی کشمیر میں ہی کیا جا رہا ہے۔ سلمان خان بھی ’بجرنگی بھائی جان‘ کی شوٹنگ مکمل کرنے کے لیے دوبارہ کشمیر آ رہے ہیں۔

یہ فلم کشمیر میں شوٹ نہیں کی گئی لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ بالی وڑ کی کسی فلم کی تشہیر کشمیر میں کی جا رہی ہے۔

مسلح تشدد میں اضافہ سے حکومت کی سیاحتی پالیسی کو نقصان پہنچا ہے۔

امرناتھ گپھا کے درشن کرنے کے لیے موسم گرما میں لاکھوں یاتری پورے بھارت سے کشمیر آتے ہیں۔ ان کے لیے سفری سہولیات اور دیگر انتظامات مقامی انتظامیہ امرناتھ بورڑ کی ہدایت پر کرتی ہے۔

پولیس کے سربراہ کے راجندرا کا کہنا ہے کہ سیاحت اور یاترا کے حوالے سے پوری پولیس فورس اور فوج کے درمیان رابطوں کو بہتر کیا گیا ہے۔