جموں میں جھڑپ، تین اہلکاروں سمیت 11 ہلاک

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ چھ گھنٹے تک جاری رہی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ چھ گھنٹے تک جاری رہی

بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں مسلح شدت پسندوں اور بھارتی کی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ میں تین فوجیوں سمیت 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ جھڑپ جموں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان واقع ورکنگ باؤنڈری کے قریب ارنيا سیکٹر میں ہوئی ہے۔

جموں کے پولیس افسر شکیل بیگ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ پانچ مسلح شدت پسند جمعرات کی صبح پڈي كٹھار کے پاس موجود ایک پرانے مورچے میں گھس گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں نے ان افراد کو مورچے میں گھستا دیکھ کر بی ایس ایف کو اطلاع دی جس کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

فائرنگ سے تین عام شہری اور ایک فوجی زخمی بھی ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفائرنگ سے تین عام شہری اور ایک فوجی زخمی بھی ہوا ہے

پولیس کے مطابق اس پر شدت پسندوں نے فائرنگ کر دی اور تصادم شروع ہوگیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ چھ گھنٹے تک جاری رہی اور اب علاقے میں تلاشی کا عمل جاری ہے۔

بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں میں چار مبینہ شدت پسندوں اور تین بھارتی اہلکاروں کے علاوہ چار عام شہری بھی شامل ہیں۔.

فائرنگ سے تین عام شہری اور ایک فوجی زخمی بھی ہوا ہے۔

خیال رہے کہ جموں و کشمیر میں ان دنوں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں اور اس وجہ سے بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن پر نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔