بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جھڑپ، 5 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہ
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ایک جھڑپ میں 3 مشتبہ باغی اور بھارتی فوج کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
نیم فوجی دستے کے افسر نالن پربھت کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ جمعے کو اس وقت شروع ہوئی جب بھارتی فوجیوں اور پولیس نے سرینگر سے 55 کلومیٹر جنوب میں واقعہ کاڑیوا مالینو نامی گاؤں کو گھیرے میں لیا اور جنگجوؤں کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا۔
ان کے مطابق رات گئے دو جنگجوؤں اور دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد فائرنگ کا تبادلہ رک گیا تاہم سنیچر کی صبح جھڑپ پھر سے شروع ہوگئی جس کے بعد ایک اور جنگجؤ ہلاک ہو گیا۔
جھڑپ میں ایک مکان جس میں باغی چھپے ہوئے تھے، تباہ ہو گیا ہے۔ باغی گروہوں کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ملک میں جاری انتخابات کے حوالے سے انتخابی عملے کے ایک رکن کو بھی ہلاک کیا جا چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ باغیوں نے لوگوں کو انتخابات میں شرکت کرنے سے روکا ہے۔
بھارت میں لوک سبھا کے 16ویں عام انتخابات میں سات اپریل سے 12 مئی تک تقریباً ساڑھے 81 کروڑ افراد نو مرحلوں میں 543 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالیں گے جبکہ نتائج کا اعلان 16 مئی کو ہوگا۔
543 اراکینِ پارلیمنٹ میں سے 6 کشمیر سے منتخب ہوں گے۔
کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے اور دونوں ممالک اس پر دعویٰ کرتے ہیں۔ گرمیوں کے مہینوں میں اکثر علاقے میں جھڑپیں جاری رہتی ہیں۔ سنہ 1989 سے جاری کشیدگی میں اب تک 68000 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس میں ایک درجن کے قریب باغی گروہ ملوث تھے۔ اگرچہ مسلح تحریک کو بھارتی حکومت ختم کرنے میں کامیاب رہی ہے تاہم اب بھی کشمیر میں بھارت مخالف جذبات پائے جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







