بھارتی الیکشن: کشمیر میں خوف اور بائیکاٹ

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی خطے میں انتخابات کے دوران متعدد مقامات پر ہندنواز سیاسی گروپوں کو عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
اننت ناگ، شوپیان، پلوامہ اور کولگام اضلاع میں بھارتی پارلیمنٹ کے لیے جمعرات کو ووٹنگ ہوئی۔ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی کال پر اس پورے خطے میں ہڑتال کی گئی۔
سرکاری ترجمان کے مطابق دوپہر تک چاروں اضلاع میں ووٹنگ کی شرح کل ملاکر سولہ فی صد رہی۔
پلوامہ، شوپیان اور کولگام کے اکثر علاقوں میں مشتعل نوجوانوں نے پولنگ مراکز پر پتھراؤ کیا۔ سنگ بازوں نے کئی مقامات پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور تصادم میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔
کولگام میں پتھراؤ کے بعد جب صحافی جائے واردات پر پہنچے تو پولیس نے ان کا زدو کوب کیا۔ پولیس کی کارروائی میں فاروق جاوید خان اور جاوید ڈار نامی دو معروف فوٹوگرافر زخمی ہوگئے۔ فاروق خان کی گاڑی پر پولیس نے لاٹھیا برسائیں جس کے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا۔
دریں اثنا کولگا ضلع میں بعض باشندوں نے الزام عائد کیا کہ فوجی اہلکاروں نے لوگوں کو زبردستی گھروں سے نکالا اور ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ جنوبی کشمیر میں انتخابات سے قبل رونما ہونے مسلح تشدد کے کئی واقعات نے ووٹنگ کی شرح کو متاثر کیا اور آبادیاں خوفزدہ تھیں اسی لیے لوگوں نے اجتماعی طور پولنگ مراکز کا رُخ نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

واضح رہے پانپور میں ہونے والے مسلح حملے میں دو پولیس اہلکار اور دو شدت پسند مارے گئے۔ اونتی پورہ اور ترال میں تین ہندنواز سیاسی کارکنوں سمیت چار افراد کو مسلح افراد نے قتل کر ڈالا۔ ان حملوں کے بعد متعدد سیاسی کارکنوں نے پولیس تھانوں میں پناہ لی۔
جنوبی کشمیر میں ایک ہزار چھہ سو پولنگ مراکز قائم تھے، جن میں سے چودہ سو کو انہتائی حساس قرار دیا گیا تھا۔
چاروں ضلعوں کی بھارتی پارلیمان میں نمائندگی کے لیے صرف ایک نشست ہے۔ اس نشست کے لیے جنوبی کشمیر کے 12 امیدوار میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی محبوبہ مفتی اور حکمران نیشنل کانفرنس کے امیدوار محبوب بیگ کے درمیان ہے۔
یہاں کے مبصرین کی متفقہ رائے ہے کہ الیکشن میں اگر محدود شرح سے لوگ ووٹ ڈالیں تو اپوزیشن پی ڈی پی کو نقصان اور حکمران جماعت کو فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن علیحدگی پسندوں کا خیال ہے کہ لوگوں کی اکثریت تحریک آزادی کے ساتھ ہے اور وہ ہندنواز سیاسی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔
قابل ذکر ہے کہ حزب اختلاف کے مفتی محمد معید نے الزام عائد کیا ہے کہ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس تشدد اور ہلاکتوں کو ہتھیار بنا کر اقتدار کی بقا کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔

سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق، محمد یسین ملک اور شبیر شاہ نے الگ الگ بیانات میں کہا ہے پانچ لاکھ سے زائد افواج اور ایک وسیع سکیورٹی نیٹ ورک کے ہوتے ہوئے کوئی انتخابی عمل معتبر نہیں ہو سکتا۔
انھوں نے لوگوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ پاکستان میں مقیم مسلح کشمیری رہنماوں سید صلاح الدین، مشاق زرگر نے بھی ان انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ علیحدگی پسندوں نے ’انتخابی ڈرامے سے لاتعلقی کے لیے‘ لوگوں کا شکریہ کیا ہے۔
جموں کشمیر میں کل ملاکر چھہ پارلیمنٹ نشستیں ہیں۔ جموں، پونچھ اور ادھمپور، ڈوڈہ سیٹوں کے لیے 10 اور 17 اپریل کو الیکشن ہوئے جبکہ سرینگر کی سیٹ کے لیے 30 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ سات مئی کو لداخ کی سیٹ کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
جموں کشمیر پولیس کے سربراہ اشوک پرساد نے کا کہنا ہے کہ فوج اور پولیس نے مشترکہ طور پر ایک مربوط سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ جنوبی خطے میں لوگوں کی انتخابات کی لاتعلقی کے رجحان کا اثر سری نگر اور بارہمولہ کے انتخابات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ان دونوں سیٹوں کے لیے 30 اپریل اور سات مئی کو الیکشن ہوں گے۔







