کشمیر: مسلح حملے میں چار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرِانتظام جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں مسلح شدت پسندوں کے حملے میں دو پولیس اہل کار ہلاک ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں دو شدت پسند بھی مارے گئے۔
یہ حملہ پلوامہ کے کھری وا گاؤں میں واقع ہند نواز گروپ نیشنل کانفرنس کے ایک رہنما کے گھر پر ہوا۔
یاور مسعودی نامی اس کارکن کے گھر میں پیر کو منعقد ہونے والی سیاسی ریلی کی تیاری ہو رہی تھی۔
جنوبی کشمیر کے اعلیٰ پولیس افسر وجے کمار نے بتایا کہ مکان پر حملہ کرنے کے بعد مسلح شدت پسندوں نے نزدیکی باغ میں پناہ لے لی جہاں مختصر تصادم کے بعد انھیں ہلاک کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ، اننت ناگ، شوپیان اور کولگام اضلاع میں 24 اپریل کو بھارتی پارلیمانی انتخابات کے تحت ووٹنگ ہوگی۔
پیر کو ہونے والی سیاسی ریلی سے وزیرِاعلی عمرعبداللہ سمیت اعلیٰ رہنما خطاب کرنے والے تھے۔ ریلی کی تیاری نیشنل کانفرنس کے یوتھ ونگ رہنما یاور مسعودی کے آبائی گھر پر ہو رہی تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق وہاں پارٹی کے درجنوں کارکن اور یاور مسعودی کے حمایتی موجود تھے۔
ایک پولیس اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صحن میں دو پولیس اہل کاروں کی لاشیں پڑی تھیں اور مسلح شدت پسند مکان کے اندر سے بھی فائرنگ کر رہے تھے۔ اس واقع کے بعد میں فوج اور نیم فوجی اہل کاروں کی بڑی تعداد نے مکان کا محاصرہ کر لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس سربراہ اشوک پرساد کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران کسی بڑے خطرے کا اندیشہ نہیں ہے لیکن گزشتہ کچھ ہفتوں سے جموں اور کشمیر خطوں میں ایسے حملے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ مسلح تنظیموں کے اتحاد جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے لوگوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے ۔تاہم جہاد کونسل یا کسی مسلح گروپ نے انتخابات میں حصہ لینے والوں کو کوئی واضح دھمکی نہیں دی ہے۔
علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندنواز سیاسی نظریات کے حامل لوگوں کو قتل کرنا تحریک کےاخلاقی تقاضوں کے منافی ہے۔
سید صلاح الدین اور سید علی گیلانی کے ساتھ ساتھ شبیر شاہ اور یسین ملک نے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ ہندنواز سیاسی رہنما کشمیر پر بھارت کے فوجی قبضہ کو دوام بخشنے کے لیے سرگرم ہیں اور لوگوں کو جذباتی نعروں سے بہلاتے ہیں۔







