کشمیر:پولیس فائرنگ سے لڑکے کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ

،تصویر کا ذریعہAP
بھارتی زیر انتظام کشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پورہ میں مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجہ میں اٹھارہ سالہ فرحت ڈار کی ہلاکت کے بعد بانڈی پورہ، سرینگر اور بارہ مولہ سمیت تمام حساس قصبوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
جمعے کو نوجوان کی ہلاکت کے بعد سنیچر کو لوگوں نے کسی کال کے بغیر احتجاجاً ہڑتال کی ہے۔
بانڈی پورہ کی ضلعی انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے لیکن نوجوان کی ہلاکت کے بعد پولیس اور مقامی انتظامیہ کے خلاف غم وغصہ میں اضافہ ہوا ہے۔
مظاہروں کو روکنے کے لیے سرینگر، بانڈی پورہ، سوپور اور دوسرے حساس علاقوں میں سنیچر کی صبح سے ہی پولیس اور نیم فوجی اہلکار گشت کرتے رہے اور بستیوں کی ناکہ بندی بھی کی گئی۔
سنیچر کو پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد شاہراہوں پر بھی تعینات رہی تاہم سخت ناکہ بندی کے باوجود سینکڑوں افراد نے فرحت ڈار کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
شمالی کشمیر کے علاقے لنگیٹ سے منتخب آزاد رکن اسمبلی انجینیئر رشید نے سنیچر کو فرحت ڈار کی ہلاکت کے خلاف لال چوک میں احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔ مظاہرین 'خون کا حساب دو' کے نعرے بلند کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
اس دوران حکومت کی خاموشی کو اپوزیشن نے مجرمانہ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکمران نیشنل کانفرنس نے اپنے وفادار پولیس افسروں کو حساس ضلعوں میں تعینات کیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں اور انتظامیہ کے درمیان جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
حریت کانفرنس (میرواعظ گروپ) کے ایک بیان کے مطابق حریت کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق اور ان کےساتھیوں کو گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔ بیان میں اتوار کو کشمیر میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی کشمیریوں نے اس ہلاکت پر غصے کا اظہار کیا۔
انسانی حقوق کے سرگرم کارکن خرم پرویز کا کہنا ہے: ’چند برس قبل یہاں کے نوجوانوں نے غیر مسلح مزاحمت شروع کی۔ اس جذبہ کو ختم کرنے کے لیے فوج کے سدھباؤنا آپریشن کے تحت دس ہزار طلبا کو تعلیمی اداروں میں وظائف دیے گئے، لیکن نہ تو ان طلبا کا جذبہ ٹھنڈا ہو سکا اور نہ ہی یہاں کی تحریک میں کوئی جمود آیا۔‘
خیال رہے کہ چند روز قبل ہی سرینگر میں ’سافٹ سِکلز‘ کے عنوان سے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں گیارہ ہزار پولیس اہلکاروں کو مشتعل ہجوم سے تشدد کیے بغیر نمٹنے کی تربیت دی گئی تھی۔
کشمیر میں سنہ 2010 میں غیر مسلح مزاحمت کے دوران مظاہرین پر فائرنگ میں سو سے زائد نوجوان مارے گئے تھے، جس کے بعد حکومت ہند نے اعلان کیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف غیر مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا جائے گا۔







