بھارت اور برما میں شدید بارشوں اور سیلاب سے لاکھوں متاثر

لگاتار شدید بارش کی وجہ سے بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے

،تصویر کا ذریعہDilip Sharma

،تصویر کا کیپشنلگاتار شدید بارش کی وجہ سے بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے

بھارت کی مختلف ریاستوں اور پڑوسی ملک میانمار (برما) میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 140 سے زیادہ ہو گئي ہے جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں شدید بارش اور مٹی کے تودے گرنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے ديگر حصوں سے بھی شدید بارش کی وجہ سے ہلاکتوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

آسام کے شہر گوہاٹی سے مقامی صحافی دلیپ کمار شرما نے بتایا ہے کہ جنڈیل ضلع کے ڈپٹی کمشنر رابرٹ كھیتری مايوم نے مٹی کے تودے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

مٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہDilip Sharma

،تصویر کا کیپشنمٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق ریاست مغربی بنگال میں شدید بارش سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سنیچر تک 40 تک جا پہنچی۔ تازہ ہلاکتیں مشرقی اور مغربی میدنی پور، نادیا اور کولکتہ میں ہوئی ہیں۔

اخبار کے مطابق ان علاقوں میں کم از کم ڈیڑھ سو امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں اور ان میں آٹھ سے دس ہزار افراد کو منتقل کیا گیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق ریاست کے بعض علاقوں میں آئندہ 24 گھنٹوں تک شدید بارش کا امکان ہے۔

ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے مطابق شدید بارش کی وجہ سے کم از کم دو لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

انھوں نے جمعے کو کہا تھا ’بارشوں سے کم از کم ایک لاکھ 80 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 19 ہزار افراد کو ریاست کے متاثرہ 12 اضلاع میں قائم 946 کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔‘ انھوں نے 39 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

میانمار کے سیلاب میں طوفان کومین نے بھی اضافہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمیانمار کے سیلاب میں طوفان کومین نے بھی اضافہ کیا ہے

اس کے علاوہ بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں بھی گذشتہ دنوں بارش کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 53 ہو گئی ہے۔

اخبار ’دا انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق ریاست کے ایمرجنسی کنٹرول روم کے حکام نے بتایا کہ شدید بارش کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 53 ہو گئی ہے جس میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بانسکنٹھا کی 28 اموات بھی شامل ہیں۔

میانمار میں مکانات کو بھی شدید نقصانات پہنچے ہیں

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا کیپشنمیانمار میں مکانات کو بھی شدید نقصانات پہنچے ہیں

ادھر منی پور ریاست میں مقامی افسران اسے حالیہ برسوں میں سب سے شدید مٹی کے تودے گرنے کا واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

ان کے مطابق مٹی کے تودے گرنے اور زمین کے بہہ جانے کی وجہ سے متعدد شاہراؤں اور پلوں کو نقصان پہنچا ہے جس سے بعض علاقوں کا زمینی رابطہ ختم ہو گیا ہے۔

منی پور سے ملحق ریاست میزورم میں بھی زمین کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں اور دونوں ریاستوں میں ہزاروں لوگوں کے بے گھر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھارت کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ کیا ’این ڈی آر ایف کی ٹیمیں امدادی کام کے لیے متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔‘

ادھر بھارت سے ملحق ملک میانمار (برما) کے چار مغربی علاقوں کو ’آفت زدہ علاقہ‘ قرار دیا ہے جہاں شدید سیلاب کی وجہ سے کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایک ہفتے سے جاری موسلادھار بارش کے نتیجے میں علاقے میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تیز ہوا اور بارش والے طوفان کومین نے بھی تباہی میں اضافہ کیا ہے۔

آنے والے کئی دنوں تک مزید بارش کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہDilip Sharma

،تصویر کا کیپشنآنے والے کئی دنوں تک مزید بارش کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

میانمار میں قومی ریڈ کراس کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کی ڈائریکٹر مگ مگ کھن نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک ایک بڑی تباہی کی زد میں ہے اور آنے والے ہفتے میں مزید بارش کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رخائن کے علاقے میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد کیمپوں میں رہ رہے ہیں جن میں زیادہ تر روہنجیا مسلمان ہیں۔

ہزاروں افراد نے مونیسٹریز میں پناہ لے رکھی ہے تاہم ایک رپورٹ کے مطابق رہنجیا مسلمانوں کو بعض پناہ گاہوں سے نکال دیا گیا ہے۔

’دی برما ٹائمز‘ کے مطابق مغربی رخائن ریاست میں سکیورٹی فورسز نے خالی سکولوں اور کمیونیٹی سینٹرز سے روہنجیا مسلمانوں کو نکال دیا ہے۔

برما کی زراعت اور آبپاشی کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ تقریبا پانچ لاکھ ایکڑ دھان (چاول) کی فصل سیلاب کی زد میں آ گئی ہے۔

سنیچر کو اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ وہ کیمپوں کے دورے کے لیے ایمرجنسی ٹیم روانہ کرنے والی ہے تاکہ وہاں غذا اور پینے پانی کی ضرورتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔