ممبئی دھماکے کیس: یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا برقرار

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کی سپریم کورٹ نے سزائے موت کے خلاف یعقوب میمن کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
اب اگر بھارتی صدر بھی ان کی رحم کی درخواست مسترد کر دیتے ہیں تو انھیں جمعرات کی صبح پھانسی دیدی جائے گی لیکن صدر کے لیے فیصلہ کرنی کی کوئی مدت متعین نہیں ہے۔
جمعرات کو یعقوب میمن کی 54 ویں سالگرہ بھی ہے۔
یعقوب میمن کو1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریباً سات سو زخمی ہوئے تھے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو کہا کہ نہ تو یعقوب میمن کی سزا کے اطلاق کے لیے جاری کیے جانے والے پھانسی کے وارنٹ میں کوئی تکنیکی کمی تھی اور نہ ان کی نظرثانی پٹیشن کی سماعت میں، لہذٰا انھیں پھانسی دی جا سکتی ہے۔
یعقوب میمن کے وکلا کا موقف تھا کہ ذیلی عدالت نے تین ماہ قبل جب پھانسی کا ورانٹ جاری کیا تھا، اس وقت تک سزائے موت کے خلاف اپیلوں کا قانونی سلسلہ اپنے انجام کو نہیں پہنچا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا۔
اس سے پہلے منگل کو سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ اختلاف رائے کی وجہ سے کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہی تھا۔
یعقوب میمن نے بھارتی صدر اور مہارشٹر کے گورنر سے بھی رحم کی اپیل کی تھی۔ مہارشٹر کے گورنر نے ان کی اپیل مسترد کر دی ہے لیکن صدر کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
لیکن قانونی ماہرین کے مطابق اس بات کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے کہ صدر ان کی درخواست پر کوئی مثبت فیصلہ کریں گے کیونکہ گذشتہ برس انھوں نے یعقوب میمن کی رحم کی درخواست مسترد کردی تھی۔
مہارشٹر کی ریاستی حکومت پہلے ہی یہ اعلان کر چکی ہے کہ یعقوب میمن کو 30 جولائی کی صبح پھانسی دے دی جائے گی۔
ممبئی کے بم دھماکوں میں یعقوب میمن کے بڑے بھائی ٹائگر میمن اصل ملزم ہیں۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ انڈر ورلڈ کے سرغنہ داؤد ابراہیم کے ساتھ پاکستان میں ہیں۔
جب سے یعقوب میمن کی پھانسی کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے، بھارت میں اس بات پر شدید بحث چھڑ گئی ہے کہ انھیں ایک ایسے جرم کے لیے سزا دی جا رہی ہے جس میں اصل کردار ان کے بڑے بھائی ٹائگر میمن نے ادا کیا تھا اور یعقوب میمن الزامات کا سامنا کرنے کے لیے خود اپنی مرضی سے بھارت واپس آئے تھے۔
سزا کی مخالفت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں واپس لانے کے لیے ان سے کچھ وعدے کیے گئے تھے جن سے حکومت یا تفتیشی ایجنسیاں بعد میں پیچھے ہٹ گئیں۔
یعقوب میمن کو واپس لانے کی کارروائی سے وابستہ را اور سی بی آئی کے افسران نے بھی یہ انکشاف کیا ہے کہ یعقوب میمن اپنی مرضی سے واپس آئے تھے اور انھوں نے ان دھماکوں کی سازش کا پردہ فاش کرنے میں تفتیش کاروں کی مدد کی تھی لیکن ان سے نرمی کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔
اس کیس میں 11 مجرمان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی لیکن سپریم کورٹ نے 10 دیگر افراد کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔







