یعقوب میمن کی پھانسی پر ججز میں اختلاف

یعقوب میمن کی سزائے موت پر عمل در آمد کی تیاری کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیعقوب میمن کی سزائے موت پر عمل در آمد کی تیاری کی جا رہی ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے یعقوب عبدالرزاق میمن کی پھانسی کو روکنے کی درخواست کو لارجر بنچ کے حوالے کر دیا ہے۔

ٹائیگر میمن کے بھائی یعقوب میمن کو سنہ 1993 میں ممبئی میں ہونے والے حملے کے لیے پھانسی کی سزا دی گئی تھی جسے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں نے بحال رکھا۔

انھیں 30 جولائی کو پھانسی دینے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے ٹویٹ کے مطابق ان کی عرضی پر سماعت کرنے والی بینچ کے ججز جسٹس اے آر داوے اور جسٹس کوریئن جوزف کے درمیان ان کی عرضی پر سماعت کے متعلق اختلاف تھا۔

جسٹس داوے سزائے موت پر حکمِ امتناعی کے خلاف تھے جبکہ جسٹس کوریئن کے خیال میں سزاۓ موت پر عمل در آمد نہیں کیا جانا چاہیے۔

جسٹس داوے نے یعقوب کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے یہ بات مہاراشٹر کے گورنر کی ایما پر چھوڑ دی جن کے پاس یعقوب میمن کی جانب سے رحم کی درخواست پیش کی گئی ہے۔

جبکہ جسٹس کوریئن کا کہنا ہے کہ ان کی پر نئے سرے سے سماعت کی جانے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی اپیل کو بغیر درست ضابطے پر عمل کیے مسترد کر دیا گيا ہے۔

اپیل پر غور کرتے ہوئے دونوں ججوں نے مختلف فیصلے دیے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناپیل پر غور کرتے ہوئے دونوں ججوں نے مختلف فیصلے دیے

پی ٹی آئی کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’کیوریٹیو درخواست پر فیصلہ لینے میں کمی کا تدارک کیا جانا چاہیے ورنہ یہ زندگی کے حق کے قانون کی واضح خلاف ورزی ہوگی۔‘

اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایک تین رکنی بنچ کا قیام کریں گے جو اب یعقوب میمن کی عرضی پر غور کرے گی۔

خیال رہے کہ یعقوب میمن نے جمعے کو سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی جس میں انھوں نےڈیتھ وارنٹ کو چیلنج کیا تھا۔

میمن کے مطابق تمام قانونی اختیارات ختم ہونے سے پہلے ہی ان کے خلاف ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیا گیا تھا جو کہ ان کے مطابق غیر قانونی ہے۔

ان کی اپیل کو سپریم کورٹ نے قبول کرتے ہوئے پیر کو سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن پیر کو اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا اور اسے منگل تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

منگل کو دونوں ججوں نے اپنا اپنا فیصلہ سنایا جن میں اختلاف تھا۔

ہندوستان کی حکومت نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ یعقوب میمن اپنے پاس موجود تمام عدالتی اختیارات اپنا چکے ہیں اس لیے ان کی پھانسی ٹالی نہیں جانی چاہیے۔