کابل میں دو خود کش دھماکے

نیٹو کا کہنا ہے کہ حملے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننیٹو کا کہنا ہے کہ حملے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دو خود کش دھماکوں میں نیٹو قافلے اور افغان انٹیلی جنس کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پہلے حملے میں غیر ملکی فوجیوں کو لے جانے والی ایک لینڈ کروزر گاڑی کو کار بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ حملے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

دوسرے حملے میں دو افراد نے افغان انٹیلی جنس کے دفتر میں اس وقت دھاوا بول دیا جب کہ اسی دوران ایک تیسرے شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اس حملے میں ایک چوکیدار ہلاک اور ایک شخص زخمی ہو گیا جبکہ دو مسلح افراد بھی مارے گئے۔

طالبان اور حزبِ اسلامی نے پہلے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ تشدد کے یہ واقعات ایسے وقت ہوئے ہیں جب سفارتی ذرائع نے افغانستان کے نائب وزیرِ خارجہ حکمت کرزئی کی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں موجودگی کی تصدیق کی ہے جبکہ طالبان کا ایک دوسرا وفد بھی قطر سے اسلام آباد پہنچا ہے۔

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار وحید مسعود کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے تو وہ بیجنگ، ارومچی اور اوسلو میں گذشتہ دنوں منعقد ہونے والے مذاکرات کا تسلسل ہوں گے۔