نیسلے پانچ کروڑ مالیت کی میگی نوڈلز تلف کرے گا

فوڈ سیفٹی ریگولیٹر کے مطابق نیسلے کی تیار کردہ میگی نوڈلز ’غیر محفوظ اور مضر‘ ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفوڈ سیفٹی ریگولیٹر کے مطابق نیسلے کی تیار کردہ میگی نوڈلز ’غیر محفوظ اور مضر‘ ہے

بھارت میں فوڈ سیفٹی ریگولیٹر کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد نیسلے کا کہنا ہے کہ کمپنی پانچ کروڑ مالیت کی میگی نوڈلز تلف کردے گی۔

فوڈ سیفٹی ریگولیٹر کے مطابق نیسلے کی تیار کردہ میگی نوڈلز ’غیر محفوظ اور مضر صحت‘ ہیں۔۔ اس نے نیسلے پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ فوڈ سیفٹی کے قوانین پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا ہے۔

نیسلے کا کہنا تھا کہ اس کے نوڈلز بالکل محفوظ ہیں اور انھوں نے اس حوالے سے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

بھارت میں نوڈلز کی مارکیٹ میں 80 فیصد ترسیل نیسلے کرتی ہے۔

کمپنی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میں بازار سے ہٹائے گئے نوڈلز کے پیکٹ، فیکٹریوں اور ڈسٹریبوٹروں کے ذخائر شامل ہیں۔

نیسلے کا کہنا ہے: ’اس حوالے سے کچھ اضافی خرچ بھی ہیں، مثال کے طور پر مارکیٹ سے سٹاک لانے، تلف کرنے والے مقامات تک لے کر جانے، تلف کرنے کے عمل کا خرچ وغیرہ۔ اس حوالے سے حتمی رقم بعد میں بتائی جائے گی۔‘

رواں ماہ کے آغاز میں ریگولیٹرز کا کہنا تھا کہ میگی نوڈلز کے کچھ پیکٹس میں مقررہ مقدار سے زیادہ سیسہ موجود ہے، جس کے بعد نیسلے نے میگی نوڈلز کو دکانوں سے ہٹانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔

بھارت میں نوڈلز کی مارکیٹ میں 80 فیصد ترسیل نیسلے کرتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں نوڈلز کی مارکیٹ میں 80 فیصد ترسیل نیسلے کرتی ہے

کمپنی نے ریگیولیٹرز کے حکم کی عدالتی نظر ثانی کے لیے ممبئی کے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور بھارت میں کھانوں سے متعلق تحفظاتی قوانین کی ’تشریح کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔‘

نیسلے کے گلوبل چیف ایگزیکٹیو پال بلکے کو لیباٹری ٹیسٹ کے نتائج دیکھنے اور میگی نوڈلز کی بازار میں دوبارہ واپسی کا وعدہ کیا گیا ہے۔

دیگر ریاستوں میں بھی میگی نوڈلز میں مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (ایم ایس جی) نامی مرکب کی موجودگی اور متعین مقدار کی جانچ کی جارہی ہے۔

میگی نوڈلز 1983 میں بھارت میں متعارف کرائی گئی تھی اور یہ ملک میں تقریباً ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے۔