چین کے سابق سکیورٹی چیف کو عمر قید کی سزا

،تصویر کا ذریعہAP
چین کے سابق سکیورٹی چیف ژو یونگ کانگ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ کمیونسٹ دورِ حکومت میں وہ بے ضابطگیوں کے الزام میں مقدمے کا سامنے کرنے والے سینیئر ترین سیاست دان ہیں۔
چین کے سرکاری خبررساں ادارے شن ہوا کے مطابق ان پر رشوت لینے، اختیارات کے غلط استعمال اور ’جان بوجھ کر قومی راز افشا‘ کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے۔
سنہ 2012 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک ان کا شمار چین کے بااختیار ترین افراد میں ہوتا تھا۔
ان کی ریٹائرمنٹ کے ایک سال بعد صدر شی جن پنگ کی بدعنوانی کے خلاف مہم کے تحت انھیں زیرتفتیش رکھا گیا تھا۔
سرکاری ٹی وی پر 72 سالہ ژو ہونگ کانگ کو چین کے شہر تیاجن میں بند کمرۂ عدالت میں سماعت کے دوران اعتراف جرم کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ انھوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا: ’مجھے اس نقصان کا احساس ہے جو میں نے پارٹی اور عوام کو پہنچایا ہے۔ میں اعترافِ جرم کرتا ہوں اور مجھے اپنے جرائم پر ندامت ہے۔‘
چینی خبررساں ادارے کےمطابق 22 مئی کو ژو یونگ کانگ کے مقدمے کی سماعت بند کمرے میں ہوئی کیونکہ اس مقدمے میں سرکاری راز شامل تھے۔ جمعرات کو عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے تک اس بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
شن ہوا کے مطابق ژو یونگ کانگ کو دو کروڑ 13 لاکھ ڈالر رشوت لینے کے جرم میں عمر قید کی سزا، سات سال اختیارات کے غلط استعمال اور چار سال قید کی سزا ’جان بوجھ کر قومی راز افشا‘ کرنے کے جرم میں سنائی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کو تمام سیاسی حقوق سے محروم کردیا گیا اور ان کی جائیداد بھی ضبط کر لی گئی ہے۔
سابق سکیورٹی چیف کے خلاف نو ماہ تک تفتیش کے بعد اپریل میں مقدمہ درج کیا گیا۔ اس وقت سے انھیں کمیونسٹ پارٹی سے بھی نکال دیا گیا ہے۔
ژو ہونگ کانگ وزارت پبلک سکیورٹی کے سربراہ کے علاوہ چین کی اعلیٰ رکنی کمیٹی پولٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔
سنہ 1949 میں کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ایسا پہلی بار ہوا کہ کسی سینیئر سیاستدان کو بے ضابطگیوں پر مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ سنہ 2012 میں اقتدار میں آنے کے بعد صدر شی جن پنگ نے بے ضابطگیوں کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
صدر شی جن پنگ کے بے ضابطگیوں کے خلاف اس کریک ڈاؤن میں اب تک ژو یونگ کانگ کے آئل انڈسٹری میں سابق معاونِ کار اور صوبہ سچوان میں کمیونسٹ پارٹی کے صدر کے خلاف تفتیش اور مقدمہ بازی کی جا چکی ہے۔







