اب پی تو جرمانہ ہوگا

اس سے قبل سنہ 2011 میں عوامی مقامات پر سگریٹ پینے پر پابندی عائد کی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس سے قبل سنہ 2011 میں عوامی مقامات پر سگریٹ پینے پر پابندی عائد کی گئی تھی

چین میں نیا قانون متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت دارالحکومت بیجنگ میں عوامی مقامات پر سگریٹ پینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

چین میں 30 کڑور افراد تمباکو نوشی کے عادی ہیں اور ہر تقریباً دس لاکھ افراد اس کے باعث مختلف امراض کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ سگریٹ نوشی پر چین میں پہلے سے ہی پابندی عائد تھی تاہم اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی تھی۔

اب نئی قانونی اصلاحات کے تحت ہوٹلوں، دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ پینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اور قانون پر عمل درآمد کے لیے ہزاروں کی تعداد میں معائنہ کاروں کی مدد حاصل کی جائے گی۔

’نام اور شرم‘

ہر سال دس لاکھ کے قیب چینی شہری سگریٹ نوشی کے باعث مختلف امراض کا شکار ہونے کے بعد زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہر سال دس لاکھ کے قیب چینی شہری سگریٹ نوشی کے باعث مختلف امراض کا شکار ہونے کے بعد زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں

چین کی وزارتِ صحت نے سنہ 2011 میں سفارشات جاری کی تھیں جن میں ملک بھر کے ہوٹلوں اور ریستوران میں سگریٹ پینے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ تاہم وہ قوانین مبہم تھے اور شہریوں کی جانب سے ان پر عمل نہ کر کے ان کا تمسخر اڑایا جاتا تھا۔

نئے قوانین پر نومبر 2014 میں قانون سازوں نے اتفاق کیا تھا مگر اب کئی ماہ بعد ان کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔

ان قوانین کی خِلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا جو 32 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق اگر کوئی شخص قانون کو بار بار توڑے گا تو پھر جرمانے کے علاوہ حکومتی ویب سائٹس پر اس کا نام ڈالا جائے گا تاکہ اسے شرمندہ کیا جائے۔

نئے قانون کے تحت تمباکو نوشی کی تشہیر کرنے والی کمپنیوں کے خلاف بھی کریک ڈاون کیا جائے گا۔

ادھر عالمی ادارہ صحت نے سگریٹ کے استعمال کی روک تھام کے لیے بنائے جانے والے سخت قوانین کا خیر مقدم کیا ہے۔

چین میں اس قانون کے حامیوں میں شامل ڈاکٹر برنہارڈ شوارٹلینڈر نے کہا ہے کہ نئی پابندیوں پر اطلاق کے بعد عوامی مقامات پر صاف ہوا میسر ہوگی اور لگ بھگ دو کروڑ لوگ جو ہوٹلوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور دفاتر میں موجود ہوگے وہ سگریٹ کے مضر اثرات سے محفوظ رہیں گے۔

تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ سگریٹ پینے کی عادت مقبول ہے اور اس پر پابندی کو لاگو کرنے میں بہت مشکلات پیش آئیں گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں چین میں امراض کو کنٹرول کرنے سے متعلق ادارے کے سابقہ ڈائریکٹر یانگ گون ہوان نے کہا کہ لاتعداد لوگ سگریٹ پیتے ہیں اور اس لیے پبلک مقامات کے اندر مکمل طور پر سگریٹ پینے پر پابندی عائد کرنا غیر حقیقی ہے۔