چین: غرقاب بحری جہاز کے مسافروں کو بچانے کا کام تیز

،تصویر کا ذریعہREUTERS
چین میں ٹرانسپورٹ کے وزیر کا کہنا ہے کہ دریائے یانگ زے میں غرقاب ہونے والے بحری جہاز سے مسافروں کو بچانے کے کام میں مصروف امدادی ٹیموں کا وقت سے مقابلہ ہے کیونکہ جوں جوں وقت گزرتا جائےگا زندہ بچنے والوں کی امید کم ہوتی جائے گی۔
ہزاروں امدادی کارکنوں نے ہوبیئی صوبے میں اُلٹ جانے والے بحری جہاز ایسٹرن سٹار کے گرد بچاؤ اور امدادی کاموں میں رات گزاری۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق اب تک 18 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 14 افراد کو بچا لیا گيا ہے۔ خیال رہے کہ اس جہاز پر 456 افراد سوار تھے۔
جہاز پر سوار افراد کے لواحقین معلومات کی عدم دستیابی پر پریشان ہیں۔
یہ جہاز پیر کو مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے شب کو اُلٹ گیا تھا اور اس پر سوار مسافروں میں زیادہ تر معمر چینی سیاح ہیں۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
بچائے جانے والوں میں جہاز کے کپتان اور چیف انجینیئر شامل ہیں اور ان دونوں افراد کو پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔
کپتان نے بتایا کہ ’جہاز ایک طوفان کی زد میں آیا اور پل بھر میں اُلٹ گیا۔‘
یہ جہاز فی الحال یانگ زے دریا میں دمازاؤ علاقے میں پانی میں تقریبا 15 میٹر (50 فٹ) نیچے پڑا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرانسپورٹ کے وزیر یانگ چونتانگ نے کہا: ’یہ وقت کے ساتھ مقابلہ ہے۔ جب تک تھوڑی بھی امید باقی ہے ہم سو فی صد کوشش کرتے رہیں گے اور ہار نہیں مانیں گے۔‘
غوطہ خوروں نے منگل کو دو اہم کامیابیاں حاصل کیں جب انھوں نے دو لوگوں کو زندہ بچایا جن میں ایک 65 سالہ خاتون شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ہوبیئی فوجی علاقے کے کمانڈر چین شومی نے چینی ٹی وی کو بتایا کہ غوطہ خور اپنے ساتھ سانس لینے والی مشین لے گئے تھے اور انھیں پانچ منٹ میں اس کے استعمال کا طریقہ بتایا تھا۔
مسٹر چین نے کہا: ’اس بوڑھی خاتون کا حوصلہ بہت قوی تھا اس نے بہت جلدی سیکھ لیا اور 20 منٹ بعد وہ پانی کی سطح پر تھی جنھیں بچا لیاگيا۔‘
غوطہ خوروں نے ایک 21 سالہ لڑکے کو ایک چھوٹے سے کمپارٹمنٹ میں پایا انھوں نے اسے تیرنے کے آلات فراہم کیے اور وہ خود سے تیر کر باہر آ گیا۔
ایک غوطہ خور گوان ڈونگ نے بتایا: ’میں تین بار نیچے گیا جب میں واپس ہو رہا تھا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی میرے اوپر ہے۔ جب میں پانی سے باہر آیا تو میں نے اس پھنسے ہوئے شخص کو دیھکا۔ اندر کیبن میں زبردست تاریکی تھی اور اس کے علاوہ وہاں کوئی نہیں تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اطلاعات کے مطابق جائے حادثہ سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہنان صوبے کے یوئیانگ میں تین لاشیں ملی ہیں۔
مسٹر چین نے کہا: ’وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے ہم ہر ممکنہ اقدام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ ہوں ہم ان سے اپنے عزیزوں کا سا سلوک کریں گے۔‘
بحری جہاز مشرقی شہر نانجنگ سے جنوب مغرب میں واقع شہر چونگ کنگ جا رہا تھا جب یہ حادثہ پیش آیا۔ جس جگہ جہاز ڈوبا ہے وہاں پانی کی گہرائی 50 فٹ کے قریب ہے۔







