چین: بھگدڑ سے ہلاکتوں کی تحقیقات، چار افسران برخاست

،تصویر کا ذریعہAFP
چین میں حکام نے شنگھائی میں نئے سال کی استقبالیہ تقریب میں بھگدڑ کے نتیجے میں 36 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کے بعد چار منتظم افسران کو برخاست کر دیا ہے۔
تاہم شنگھائی شہر کی انتظامیہ میں سے کسی شخص کو اس حادثے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔
یہ بھگدڑ شنگھائی کے ہوانگ پو ڈسٹرکٹ میں واقع چین یی سکوائر میں 31 دسمبر کی شب اس وقت مچی تھی جب عوام کی بڑی تعداد دریا کے کنارے سنہ 2015 کے استقبال کی تقریب میں شرکت کے لیے جمع تھی۔
چین کے صدر زی جن پنگ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور حکومت کی جانب سے شائع کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں ان افسران پر مناسب انتظامات نہ کرنے، تقریب کی جگہ پر بدانتظامی اور دریا کے کنارے ہجوم جمع ہونے دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ اہلکار جائے وقوع پر موجود ہونے کی بجائے ایک اور تقریب میں شریک تھے جس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں جلد شروع کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔
چین میں اس واقعے کے بعد نئے سال کی تقریبات منسوخ کر دی گئیں تھیں۔
چین کے سرکاری سی سی ٹی وی کے مطابق دریا کے کنارے کے قریب نمائشی پلیٹ فارم کی سیڑھیاں بھگدڑ کا مرکزی مقام تھیں اور لوگ سیڑھیوں پر ایک دوسرے کے اوپر گرتے گئے۔
شنگھائی کی پولیس نے ان اطلاعات کو مسترد کیا تھا کہ بھگدڑ اس وقت شروع ہوئی جب ہجوم میں شامل افراد نے ایک عمارت سے پھینکے جانے والے نقلی کرنسی نوٹ جمع کرنے کی کوشش کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا ہے کہ نوٹ پھینکنے کا واقعہ بھگدڑ مچنے کے بعد پیش آیا تھا۔







