بھارت میں گرمی کی لہر ٹوٹنے لگی

،تصویر کا ذریعہepa
گرمی کی شدید لہر جس نے گذشتہ کئی دنوں سے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، اس کی شدت اب کم ہو رہی ہے اور کئی علاقوں میں بارش کی توقع ہے۔
حکام کے مطابق تلنگانا اور آندھر پردیش کی ریاستیں، جہاں شدید گرمی پڑی اور درجۂ حرارت 45 ڈگری سے بھی تجاوز کر گیا تھا، وہاں سترہ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان دونوں ریاستوں کے کئی علاقے پر بادل چھائے ہوئے ہیں اور محکمۂ موسم کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو مون سون سے پہلے بارش ہونے کی توقع ہے۔
تنلگانا ریاست میں مئی کے آخر میں مون سون کی ہوائیں پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے بعد مون سون کی ہوائیں پورے ملک سے گزریں گی۔
اندھر پردیش کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں وہاں 18 مئی تک 13 سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ریاست کے محکمۂ موسمیات کے سربراہ وائی کے ریڈی نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ گرمی کا زور ٹوٹ رہا ہے اور دو اضلاع کے علاوہ ریاست کے باقی علاقوں میں قابل ذکر حد تک گرمی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
تلنگانا کی ریاست میں جہاں حکام کے مطابق 340 افراد ہلاک ہو گئے تھے، درجۂ حرارت میں کمی ہوئی ہے۔
تلنگانا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ بی آر مینا نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ان کی ریاست میں گرمی کا زور بالکل ٹوٹ گیا ہے اور موسم اب معمول کے مطابق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا بھارت کے سرکاری ہپستالوں میں لو لگنے سے بیمار پڑنے والوں کی بھیڑ ہے۔
آندھرا پردیش کے راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر انجیا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس علاقے میں سات سال سے تعینات ہیں لیکن انھوں نے کبھی اتنی شدید گرمی نہیں دیکھی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے گرمی سے متاثرہ درجنوں افراد کا علاج کیا ہے۔
دارالحکومت دہلی میں بھی ہپستالوں میں گرمی سے متاثرہ بے شمار افراد زیر علاج ہیں۔
دہلی کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر اجے لکھی نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ’ہسپتال ہیٹ سٹروک کے مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں اور مریض شدید سر درد اور گرمی کی وجہ سے چکر آنے کی شکایت کر رہے ہیں۔‘
اطلات کے مطابق دہلی کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے باہر لوگوں کی طویل قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔
سائنس اور ماحولیات کے لیے دہلی میں قائم ایک تحقیقی ادارے سنٹر فار سائنس اینڈ اینوائرنمنٹ کے مینیجر ارجن سیرینیدہی نے کہا کہ ’اس سال مارچ تک موسم خوشگوار رہا لیکن اس کے بعد گرمی میں اچانک اضافہ اموات کی وجہ ہو سکتا ہے۔‘







