بھارت میں سخت گرمی کی لہر سے 1400 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں گرمی کی حالیہ لہر کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1400 تک پہنچ گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنحکام نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ گھروں سے باہر صرف ضروری کاموں کے لیے نکلیں اور سر کو ڈھانپ کر رکھیں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ گرمی کی وجہ سے بیمار ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد ہسپتالوں میں زیرعلاج ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے محکمۂ موسمیات کے مطابق گرمی کی حالیہ لہر ابھی مزید چند دن تک جاری رہے گی۔
،تصویر کا کیپشنملک کے بعض علاقوں میں درجۂ حرارت 50 سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور بچے تالاب میں چھلانگ لگانے پر مجبور ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشنانسان تو انسان جانور بھی ٹھنڈک کی تلاش میں تالاب میں کود پڑے ہر چند کہ بکریاں عام طور پر پانی سے بہت ڈرتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشناحمد آباد کے چڑیا گھر میں یہ دس سالہ شیر پرتاپ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے پانی میں جا بیٹھا۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں سخت گرمی کی لہر سے دولھے اور دلھنیں بھی نہ بچ سکے۔ اکشایا تریتیا کے موقعے پر ایک اجتماعی شادی میں کئی جوڑوں کو شدید گرمی میں شادی کرنا پڑی کیونکہ اس دن کو شادی کے معاملے میں ہندو رسم و رواج کے مطابق مقدس ترین دن سمجھا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنجموں کے شہر میں ہاتھیوں کو بھی گرمی سے چھٹکارا پانے کے لیے نہلایا گیا۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے شہر حیدر آباد میں تاجر درختوں کی چھاؤں کے تلے شدید گرمی سے پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکولکتہ میں شدید گرمی کی وجہ سے نمبو پانی کی فروخت میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے۔ بھارت میں شدید گرمی عام طور پر مارچ سے اگست تک ہوتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے شہر احمد آباد میں نوجوان سخت گرمی سے چھٹکارا پانے کے لیے سبرمتی دریا میں نہا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشدید گرمی سے بچنے کے لیے ایک مزدور پانی نلکے کے نیچے بیٹھ گیا۔ گذشتہ دو ماہ سے ملک کے کئی خطوں میں شدید گرمی کی لہر سے سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحیدر آباد شہر میں ایک موٹر سائیکل سوار نے لُو سے بچنے کے لیے خاصا اہتمام کر رکھا ہے۔
،تصویر کا کیپشنگرمی میں گھنی چھاؤں پا کر مٹی کر برتن کا کاروبار کرنے والا دکاندار میٹھی نید سو رہا ہے۔