جلسے میں خودکشی کرنے والے کاشت کار کی تدفین

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک سیاسی جلسے کے دوران خودکشی کرنے والے کاشت کار کی تدفین کر دی گئی ہے۔
گجیندر سنگھ کی تدفین ریاست راجستھان میں واقع ان کے گاؤں میں کی گئی۔
بدھ کے روز انھوں نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے جلسے میں درخت سے لٹک کر خود کشی کر لی تھی۔ سیاست دان ان کی موت کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو گجیندر سنگھ کے بارے میں تب معلوم ہوا جب وہ اپنے گلے میں دوپٹہ باندھ کر ایک درخت پر چڑھ گئے تھے۔
ان کے پاس ایک خط ملا جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’میرے تین بچے ہیں۔ میری فصل اجڑ گئی ہے اور مجھے اپنے گھر سے نکال دیا

،تصویر کا ذریعہPTI
گیا ہے۔ مجھے بتاؤ کہ میں گھر کیسے جاؤں؟‘
1995 سے اب تک تین لاکھ بھارتی کاشت کار بڑھتے ہوئے قرضوں اور فصلوں کی کم پیداوار ہونے کی وجہ سے خود کشی کر چکے ہیں۔ لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ میڈیا میں یہ واقعہ اس لیے زیادہ رپورٹ کیا گیا ہے کیونکہ اس میں ایک شخص نے ہزاروں لوگوں کے سامنے خود کشی کی۔
گجیندر سنگھ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کے ایک جلسے میں شامل تھے۔ اس جلسے میں کیجریوال وزیر اعظم نریندر مودی کے متنازع اراضی کے حصول کے بل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے کاشت کاروں کے مفادات کو نقصان پہنچے گا لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے معیشت میں بہتری آئے گی۔
گذشتہ ماہ اس بل کو پارلیمان کے ایوان زیریں میں منظور کیا گیا تھا لیکن اسے ایوان بالا سے اب تک منظوری نہیں ملی ہے جہاں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اقلیت میں ہے۔
اس دوران دہلی میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے اروند کیجریوال کے گھر کے باہر احتجاج کیا۔
انھوں نے وزیر اعلیٰ پر غیر حساس ہونے کا الزام لگایا کیونکہ انھوں نے کاشت کار کی خودکشی کے بعد بھی اپنا جلسہ ختم نہیں کیا۔ انھیں کاشت کار کی موت کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جا رہا ہے۔
اس کے جواب میں اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ کاشت کار کی موت کی ذمہ داری حکومت کو اپنی پالیسیوں کی وجہ سے لینی چاہیے۔
حالیہ ہفتوں میں غیر متوقع طور بھارت میں بارشیں اور اولے پڑنے کی وجہ سے فصلیں اجڑی ہیں جس کی وجہ سے کاشت کار مزید دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔







