’کشمیر میں چھ ماہ بعد ہی دوبارہ سیلاب کا خدشہ‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کئی روز سے مسلسل بارشوں کے بعد دریائے جہلم خطرے کے نشان سے اُوپر بہنے لگا ہے اور حکام نے دریا کے آس پاس کی آبادی کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔
وسطی کشمیر کے چاڈورہ قصبے میں مٹی کا تودہ گرنے سے کئی مکان گر گئے ہیں اور ایک ہی خاندان کے 12 افراد سمیت 16 افراد ملبے کے نیچے پھنسے ہیں۔
ان افراد کی موت کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے تاہم پولیس کے ترجمان منوج کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج، پولیس اور انتظامیہ نے انھیں باہر نکالنے کے لیے آپریشن شروع کردیا ہے۔
اس دوران دریائے جہلم میں پانی سطح بڑھ جانے کے بعد حکومت نے سیلابی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے اور تمام سکولوں اور کالجوں کو بند کردیا گیا ہے۔
سڑکوں اور شاہراہوں پر بارشوں کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے عام تجارت بھی بری طرح متاثر ہوگئی ہے۔
قدرتی آفات اور موسمی تبدیلیوں کے ماہر شکیل رامشو کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں جو سیلاب آیا تھا اس کی وجہ سے زمین کے اندر پانی کی سطح بڑھ گئی ہے اور نیا پانی جذب کرنے کی صلاحیت ابھی موجود نہیں ہے۔
شکیل رامشو کہتے ہیں ’ویسے بھی جب ایک صدی بعد کوئی سیلاب آتا ہے اور ایک ہی سال میں دوسرے سیلاب کا خطرہ موجود رہتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMAJID JAHANGIR
دریں اثنا وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں سے اپنے پانچ وزرا سمیت سرینگر پہنچے ہیں جہاں وہ ہنگامی بنیادوں پر صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں۔تاہم عوامی حلقوں میں انتظامیہ کے خلاف زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی تک سرینگر کا کوئی علاقہ سیلاب کی زد میں نہیں آیا تاہم شمالی کشمیر میں رفیع آباد اور پلوامہ کے کئی گاؤں پہلے ہی سیلابی صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں۔
رفیع آباد کے شہری عبدالغفار نے بتایا ’اتوار کو دن بھر حکومت کہتی رہی خطرے کی کوئی بات نہیں ہے اور پھر رات کو 12 بجے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ گزشتہ برس بھی لوگوں کو دھوکے میں رکھا گیا۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ سرینگر اور اس کے گردونواح میں عارضی رہائش اور کھانے پینے کا پیشگی انتظام رکھا جارہا ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس آنے والے سیلاب کی وجہ سے جموں و کشمیر کی مجموعی اقتصادیات کو ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ساڑھے تین لاکھ مکانات گر گئے تھے۔
حکومت نے مالی معاوضہ کا اعلان تو کیا ہے ، لیکن اکثر لوگ ناراض ہیں ۔ابھی گزشتہ سیلاب کے اثرات پوری طرح زائل نہیں ہوئے تھے کہ وادی ایک بار پھر اسی آفت کی گرفت میں آگئی ہے۔







