’پردے میں رہنے دو‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
تو یہ راز آخر کھل ہی گیا کہ دو ارب لوگوں کی نمائندگی کرنے والے طاقتور رہنما جب آپس میں ملتے ہیں تو کیا باتیں کرتے ہیں۔
نریندر مودی کو ابھی سفارت کاری کا زیادہ تجربہ نہیں ہے اس لیے انھوں نے امریکی صدر براک اوباما سے اپنی قربت کو انڈرلائن کرنے کے لیے یہ حیرت انگیز انکشاف کر ڈالا: ’ہم کیا باتیں کرتے ہیں اسے تو پردے ہی میں رہنے دیں لیکن براک اور میری ایسی دوستی ہو گئی ہے کہ ہم فون پر کھل کر بات کرلیتے ہیں، گپ مارتے ہیں، ہنسی مذاق کرتے ہیں۔۔۔‘
اور ہم سمجھتے رہے کہ بڑے رہنماؤں کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہوگا کہ وہ آرام سے بیٹھ کر گپ لڑائیں، ایک دوسرے سے پوچھیں کہ یار آج دفتر نہیں گئے، سب ٹھیک تو ہے، عامر خان کی نئی پکچر دیکھی، یا جب آپ دہلی آئے تھے تو مشیل اتنی بجھی بجھی سی کیوں تھیں؟ گھر میں سب ٹھیک تو ہے؟
اس دورے میں صدر اوباما اور وزیر اعظم مودی نے اپنے اس نئے دوستانے کا کچھ اتنی بار ذکر کیا کہ بس گلے میں ہاتھ ڈال کر گھومنے کی کمی رہ گئی تھی۔ لیکن جب اربوں ڈالر کا کاروبار داؤ پر ہو تو اختلافات بھلانے میں تھوڑی آسانی ہو جاتی ہے۔ سنا ہے کہ دونوں ملک ایک ہاٹ لائن قائم کر رہے ہیں۔ دونوں رہنما یہ اعلان بھی کر چکےہیں کہ وہ کتنا کم سوتے ہیں۔ خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو!

،تصویر کا ذریعہReuters
براک اوباما شاید مودی سے یہ ضرور پوچھیں گے کہ بھائی وہ بند گلے کا کوٹ کہاں سے سلوایا تھا؟ وہ جس پر ہزاروں مرتبہ آپ کا نام لکھا ہوا تھا؟ میں تو مذاق میں ہی آپ کو راک سٹار کہہ رہا تھا۔
نریندر مودی دن میں عام طور پر دو تین بار کپڑے بدلتے ہیں۔ اتوار اور پیر کو انھوں نے پانچ چھ مرتبہ لباس تبدیل کیے، ان کے ڈیزائنر سوٹوں کی تصاویر اخبارات میں چھپی ہیں، ان میں سے ایک کوٹ ’سٹرائپس‘ یا دھاریوں والا تھا۔ لیکن قریب سے دیکھیں تو دھاریوں میں نریندر دامودرداس مودی لکھا ہوا تھا، ہزاروں مرتبہگ
ارے بھئی، راک سٹار امیج بنانے کے لیے یہ سب کرنا پڑتا ہے۔ کیا آپ نےراجر فیڈرر، یا رافیئل ندال کو نہیں دیکھا، وہ صرف اپنے ہی برانڈ کے کپڑوں اور جوتوں میں نظر آتے ہیں۔ خیر یہ آزاد ملک ہے جسے جو پہننا ہے پہنے، یہ اپنی پسند و نا پسند کا سوال ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ پسند اور ناپسند کی آزادی سب کو حاصل نہیں ہے۔
ایک اخبار کو اعتراض ہے کہ مشیل اوباما پریڈ کے دوران بور نظر آرہی تھیں۔ ہمیں اس کی وجہ نہیں معلوم لیکن یہ بات لگتی سچ ہے۔ اس دورے میں ان کی کوئی مصروفیات نہیں تھیں، وہ یا تو ہوٹل میں رہیں یا صدر اوباما کے پہلو میں۔ ایک اخبار نے لکھا کہ اتوار کو انھوں نے تھوڑا آرام کیا اور شام کو وہ صدر جمہوریہ کے عشائیہ کے لیے تیار تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
پڑھ کر ایسا لگا جیسے وہ امریکہ سے پرائیویٹ جیٹ میں نہیں بلکہ اکانومی کلاس میں بیٹھ کر آئی ہوں یا دعوت کے لیے انھیں کھانا خود ہی بنانا ہو۔ لیکن اخبار کی سچائی کو بھی داد دینا ہوگی، اس نے مانا ہے کہ پریڈ میں جو جھلکیاں پیش کی گئی تھیں، وہ زیادہ دلچسپ نہیں تھیں، اور اگر ایسا تھا تو مشیل کے بور نظر آنے پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
ویسے بھی پریڈ میں بہت سے لوگ براک اوباما کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آئے تھے، یہ دعویٰ بھی ہمارا نہیں ایک اخبار کا ہے۔ اگر یہ بات بھی سچ ہے تو مشیل کی کیا غلطی ہے؟ وہ براک اوباما کو روز دیکھتی ہیں۔
اور صدر اوباما؟ ان سے ایک ناقابل تلافی غلطی ہوگئی۔ پریڈ کے دوران وہ چوئنگ گم چبا رہے تھے۔ مصنفہ شوبھا ڈے نے ٹوئٹ کیا: ’ایک رسمی پریڈ کے دوران چوئنگ گم، واقعی؟‘ شوبھا ڈے کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اوباما پریڈ دیکھ رہے تھے، پریڈ کر نہیں رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اور آپ کو بتاتے چلیں کہ پریڈ دیکھنے ہزاروں لوگ آتے ہیں، کچھ حصوں کو چھوڑ کر یہ واقعی ایک خوبصورت نظارہ ہوتا ہے، اور وی آئی پی سٹینڈ کے دعوت ناموں کی بہت مانگ رہتی ہے۔
بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو دوسری صف میں جگہ الاٹ کی گئی تھی، شاید پروٹوکول کا یہی تقاضا ہو، اورسننے میں آیا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال اس بات پر ناراض تھے کہ انھیں دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا تھا۔
اروند بھائی، آپ تو عام آدمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، عام آدمی سڑک کےکنارے کھڑے ہوکر پریڈ دیکھتے ہیں، وی آئی پی سٹینڈ میں بیٹھ کر نہیں۔







