24 سال غیر حاضری کے بعد نوکری سے فارغ

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت میں ایک ایسے سرکاری ملازم کو بالآخر نوکری سے نکال دیا گیا جو سنہ 1990 میں چھٹی پر گیا اور کبھی واپس دفتر نہیں آیا۔
شہری ترقی کے وزیر ایم وینکیاہ نیدو کا کہنا ہے کہ محکمۂ برقیات کے اس انجینیئر اے کے ورما کے خلاف ’جان بوجھ کر غیر حاضر ‘ ہونے کی خطا ثابت ہوئی ہے۔
ان کے مطابق ورما کے خلاف سنہ 1992 سے تحقیقات جاری ہیں لیکن وہ انھوں نے ہمیشہ تعاون کرنے سے انکار کیا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں سرکاری ملازمین کی غیر حاضری ایک عام مسئلہ ہے۔
حکومتی وزیر نے ایک بیان میں بتایا کے اے کے ورما نے سنہ 1980 میں سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی تھی۔
سنہ 1990 تک وہ اس محکمے کے ایگزیکٹو انجینیئر کے عہدے تک پہنچے اور پھر رخصت پر چلے گئے۔
ان کے خلاف سنہ 1992 میں تحقیقات شروع کی گئی لیکن ان کی باقاعدہ کارروائی سنہ 2007 تک شروع نہیں ہوپائی۔
اس کے بعد محکمے کو یہ فیصلہ کرنے میں مزید سات برس لگ گئے کہ درما کو نوکری سے برخاست کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کی بیوروکریسی بڑے پیمانے پر ہونے والی غیر حاضریوں کے باعث بدنام ہے۔ سنہ 2012 میں آنے والے ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کا سرکاری نظام ایشیا کا بدترین نظام ہے۔
بھارت میں سکولوں کو بھی اساتذہ کی غیر حاضریوں کے باعث مسائل کا سامنا ہے۔
گذشتہ برس ریاست مدھیہ پردیش کے ایک سرکاری سکول کے استانی کو اس کی 24 سالہ ملازمت کے دوران 23 سال تک غیر حاصر رہنے پر نوکری سے نکالا گیا تھا۔
بھارت کے وزیر اعطم نریندر مودی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ کام کے لیے سستی کی روایت کو وہ ختم کریں گے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق وزیرِ اعظم مودی سرکاری دفاتر کے غیر اعلانیہ دورے کرتے ہیں جس کی وہ سے غیر حاضری کی شرح کم ہوئی ہے۔







