کس کس کو بلاؤں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
دہلی کی جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری آج کل سرخیوں میں ہیں۔
فرد جرم یہ ہے کہ انھوں نےاپنے بیٹے کی دستاربندی کے لیے پاکستان کے وزیراعظم کو تو مدعو کیا ہے لیکن اپنے وزیراعظم کو نہیں، اور اس طرح ثابت کیا کہ ان کی انسیت اور وفاداری کس کے ساتھ ہے۔
امام بخاری کادفاع ہے کہ کس کو بلایا جائے اور کس کو نہیں، یہ حق ہمیشہ میزبان کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ بات کسی حد تک درست بھی ہے، بشرطیکہ تقریب نجی ہو۔
بہرحال یہ بحث سیاسی ہے اور اس ڈائری میں ہم سیاست سے دور ہی رہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کچھ سوال ضرور ذہن میں اٹھتے ہیں۔
بادشاہت تو تلواروں کے زور پر نسل در نسل چلا کرتی تھی، لیکن امامت میں جانشینی کےاصول کیا ہیں؟ اور طریقۂ کار کچھ بھی ہو، تاج پوشی میں حکمرانوں کی شرکت کیوں ضروری ہے؟

،تصویر کا ذریعہAP
بہر حال، آپ جسے بلانا چاہیں بلائیے، ہمیں کیا۔ لیکن ذرا سوچیے، اگر آپ کو حکمرانوں کا بلانا ہی تھا تو دونوں کو بلا لیتے، نریندر مودی کو تو ٹھہرانے پر بھی کچھ خرچ نہیں ہوتا، دہلی میں ان کا اپنا گھر جو ہے، اور جتنی ناراضی بی جے پی اور میڈیا میں نظر آ رہی ہے، لگتا نہیں ہے کہ وہ آپ کے دعوت نامے کو مسترد کرتے۔
جب دونوں رہنما جامع مسجد میں موجود ہوتے، اور دنیا کی نگاہیں ان پر ٹکی ہوتیں، تو کیا امکان ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نظر انداز کرتے۔
ذرا تصور کیجیے کہ جامع مسجد کے صحن میں حوض کی منڈیر پر ہزاروں کبوتروں کے درمیان دونوں بیٹھ کر اپنے گلے شکوے دور کرتے، امن کا پرچم بلند ہوتا اور ہو سکتا ہے کہ آپ تینوں کو ہی نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا جاتا۔ ہو سکتا ہےکہ انعام مل بھی جاتا، ملالہ کو تو اس لیے ایک سال انتظار کرنا پڑا تھا کیونکہ گذشتہ برس وہ بہت چھوٹی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے بھی اب آنے سے منع کر دیا ہے۔ وزیراعظم مودی آتے تو سونیا آ ہی جاتیں، وہ آتیں تو ہو سکتا ہے کہ راہل گاندھی بھی آ جاتے، کم از کم یہ دیکھنے کے لیے کہ دستار بندی کیسے ہوتی ہے۔
وقت پر نہ پہنچنے کی سزا
بی جے پی کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے بارے میں آپ کی جو بھی رائے ہو، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے ضوابط کسی کے لیے نہیں بدلتی۔

،تصویر کا ذریعہ
اتوار کو آگرہ میں فوج کے سابق سربراہ اور موجودہ حکومت میں نائب وزیر خارجہ جنرل وی کے سنگھ کو آر ایس ایس کی ایک تقریب سے خطاب کرنا تھا۔ لیکن انھیں پہنچنے میں دیر ہوگئی جس کی وجہ سے انھیں تقریر نہیں کرنے دی گئی۔
آر ایس ایس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم کسی کے لیے اپنا پروگرام نہیں بدلتے، وہ دیر سے پہنچے، لہذٰا انہیں بولنے نہیں دیا گیا۔‘
جنرل سنگھ تو پرانے فوجی ہیں، وقت کی پابندی کا سبق تو انھوں نے خوب پڑھا ہوگا۔ لیکن سیاست میں وہ نئے کھلاڑی ہیں، انھیں اب احساس ہوگیا ہوگا کہ وہ وزیر بھلے ہی ہوں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں بول سکتے ہیں، جیسے وہ بحیثیت فوج کے سربراہ کانگریس کے دور اقتدار میں کیا کرتے تھے۔
کالا دھن واپس آئے گا

،تصویر کا ذریعہEPA
وزیر اعظم نریندر مودی اب قوم سے خطاب کرنے کے لیے ریڈیو کا استعمال کرتے ہیں۔ اپنے تازہ ترین خطاب میں انھوں نے کہا کہ بیرون ملک سے غریبوں کی ایک ایک پائی واپس لائی جائے گی۔
شاید اسی لیے کالا دھن واپس لانے میں دیر ہو رہی ہے۔ بیرون ملک میں غریبوں کا کوئی پیسہ نہیں ہے۔







