دستار بندی میں مودی نہیں، نواز شریف مدعو

،تصویر کا ذریعہAFP
دہلی کی جامعہ مسجد کے شاہی امام نے اپنے صاحبزاے کی دستار بندی کی تقریب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو چھوڑ کر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو مدعو کر کے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
جامعہ مسجد کے امام سید احمد بخاری کے صاحبزادے کو نائب امام مقرر کرنے یا ان کی دستار بندی کی تقریب نومبر کی 22 تاریخ کو منعقد کی جا رہی ہے۔
سید احمد بخاری کے صاحبزادے سبحان کی عمر انیس سال ہے اور وہ ایک نجی یونیورسٹی سے سوشل ورک میں گریجویش کر رہے ہیں۔
اس تقریب میں شاہی مسجد کے امام نے بھارت سے بہت سی سیاسی شخصیات کو مدعو کیا ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کو مدعو نہیں کیا گیا۔
اس تقریب میں بھارت اور بیرون دنیا سے بہت سی مذہبی شخصیات بھی شرکت کریں گی۔
شاہی مسجد کے امام نے کہا کہ انھوں نے بہت سے سیاسی، سماجی اور سیاسی شخصیات کو بھارت اور بھارت کے باہر سے بلایا ہے جن میں وزیر اعظم نواز شریف کا نام بھی شامل ہے لیکن انھوں نے نریند مودی کو نہیں بلایا کیونکہ گجرات کے فسادات پر مسلمانوں نے انھیں معاف نہیں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جن لوگوں کو اس تقریب میں بلایا گیا ہے ان میں بھارتیہ جنتہ پارٹی کے رہنما راج ناتھ سنگھ، ہرش وردھن، سید شاہنواز حسین اور وجے گوئل شامل ہیں۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی، یوپی کے وزیر اعلیٰ اکلیش یادو، کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے نامی بھی مہمانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نریندر مودی کو نہ بلانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سید احمد بخاری نے کہا کہ یہ کوئی ذاتی لڑائی ہیں ہے۔ ’وہ ہمیں پسند نہیں کرتے ہم انھیں پسند نہیں کرتے۔‘
انھوں نے کہا کہ نریندر مودی نے کبھی مسلمانوں تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی اور ہمیشہ مسلمانوں کو فاصلے پر رکھا۔
سید احمد بخاری کے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے اور اس سے وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔
بی جے پی کے ترجمان ننل کھولی نے کہا کہ ’امام بخاری خود پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ بھارتی مسلمان بھارت میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ بھارت سے پیار کرتے ہیں اور وہ کبھی پاکستان کے بارے میں نہیں سوچتے۔‘ انھوں نے کہا کہ جامعہ مسجد کے امام کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
امام بخاری نے کہا کہ سبحان کو اس لیے اس اہم عہدے کے لیے چنا گیا ہے کیونکہ ان کا رجحان مذہب اور انسانیت کی طرف ہے۔
سید احمد بخاری سنہ 2002 سے جامعہ مسجد کے امام ہیں اور وہ تاحیات امام رہیں گے اور ان کے بعد ان کا بیٹا ان کی جگہ لے لے گا۔







