شیرنی کے بچے کا ماں کی لاش پر پہرا

شیر کے بچے دو سال تک اپنی ماں کے پاس رہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنشیر کے بچے دو سال تک اپنی ماں کے پاس رہتے ہیں

بھارت کے صوبےگجرات میں ایک مردہ شیرنی کا بچہ جنگل کے رینجرز کو اپنی ماں کی لاش تک لے گیا۔

تفصیلات کے مطابق گجرات کے شہر گیر میں ایک شیرنی کا بچہ جھاڑیوں کے پیچھے چھپا ہوا رینجر کے ایک اہلکار کو دیکھ رہا تھا۔ اہلکار کی نظر جب بچے پہ پڑی تو اس نے چپ چاپ اس کا پیچھا کیا۔ بچہ اہلکار کو اپنی ماں کی لاش تک لے گیا اور جب تک اہلکار دیگر حکام اور نفری کے ساتھ واپس نہیں آیا، بچہ لاش پہ پہرا دیتا رہا۔

جنگل رینجر کے اہلکار رانا موری نے بتایا کہ ہفتے کی شام کو وہ تلسی شایام کے علاقے میں نگرانی کر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک شیر کے بچے پر پڑی۔

موری کے مطابق عمومًا اس عمر کے شیر کے بچے اکیلے نہیں گھومتے۔ عام طور پر ان کے ساتھ ان کی ماں موجود ہوتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے بچے کا پیچھا کیا تو وہ مجھے ایک ٹیلے کی جانب لے گیا جہاں اس کی ماں روپا پڑی ہوئی تھی۔ پہلے مجھے ایسا لگا کہ وہ سو رہی ہے لیکن جب وہ ہلی نہیں تو میں نے چھڑی سے اسے جگانے کی کوشش کی، تب مجھے پتہ چلا کہ اس کی موت واقع ہوگئی ہے۔‘

شیرنی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کی موت جنگل کے دیگر جانوروں سے لڑائی کے بعد ہوئی۔ حکام کے مطابق یہ لڑائی جنگلی بھینسوں سے ہوئی۔

گیر میں شیروں کی اس محفوظ پناہ گاہ میں 411 شیر موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگیر میں شیروں کی اس محفوظ پناہ گاہ میں 411 شیر موجود ہیں

جنگل کے ڈپٹی کنزرویٹیو انشومان شرما کے مطابق شیرنی کے بچے کا یہ رویہ بہت عجیب و غریب ہے اور انھوں نے شیروں میں ایسا بہت کم دیکھا ہے۔

شرما کے مطابق 11 سالہ اس شیرنی کی موت پسلیاں ٹوٹنے اور خون بہنے سے واقع ہوئی۔

2010 میں کی گئی ایک گنتی کے مطابق گیر میں شیروں کی اس محفوظ پناہ گاہ میں 411 شیر موجود ہیں۔

وائلڈ لائف انسٹیی ٹیوٹ آف انڈیا کے شیروں کے ماہر یادویندرا دیو کے مطابق انھوں نے شیر کے بچے کا اس طرح کا رویہ پہلی بار سنا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ گیر میں شیر عموماً جنگل رینجر کے اہلکاروں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ شیر کے بچے دو سے ڈھائی سال کی عمر تک پوری طرح اپنی ماہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔

15 ماہ کے اس بچے کی دیکھ بھال اب جنگل کے حکام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو اس بچے کو کسی دوسری شیرنی کے حوالے کرنا ہوگا۔