آدم خور شیر پکڑ لیا گیا

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق جنوبی بھارت کی ریاست کرناٹک میں تین لوگوں کو مارنے والے ایک شیر کو پکڑ لیا گیا ہے۔
سی سری نواسن نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ شیر کو خواب آور دوا کے ٹیکے کی مدد سے بے ہوش کر کے ایک پنجرے میں ڈالا گیا۔ اس گاؤں کے غم اور غصے سے نڈھال باسی شیر کا لقمہ بننے والوں کے خاندانوں کے لیے معاوضے کا مطالبے کر رہے ہیں اور احتجاج کے طور پر انھوں نے اہلکاروں کو پنجرہ منتقل کرنے سے روک دیا ہے۔
اسی علاقے میں ایک چوتھی موت کا ذمے دار بھی ایک اور شیر کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔
ان افراد کی موت کے بعد سے 20 دیہات میں حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور بدھ کو کسانوں نے اشتعال میں آ کے محکمۂ جنگلات کے دفتر کو نقصان پہنچایا اور دو گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔
ریاست کرناٹک میں شیروں کی یہ محفوظ پناہ گاہ جنگل کے ایک مخصوص حصے پر مبنی ہے جو جنوبی بھارت کی تین ریاستوں میں پھیلی ہوئی ہے۔
2011 میں ہونے والی گنتی کے مطابق بھارت میں صرف 17 سو شیر باقی رہ گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت میں ایک صدی پہلے ایک لاکھ شیر موجود تھے جن کی تعداد بے دریغ شکار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے وجہ سے انتہائی کم ہو گئی ہے۔
دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجوئے موجمدار کے مطابق یہ شیر اکثر خوراک کے لیے گاؤں میں موجود لوگوں کا شکار کرتے ہیں۔



