’دھوتی‘ کی ممانعت پر جیل اور جرمانے کا بِل

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں ’دھوتی‘ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ ریاست میں اب اگر کوئی کلب، کمپنی یا ادارہ دھوتی پہنے ہوئے شخص کو داخل ہونے سے روکتا ہے، تو اس کا لائسنس منسوخ ہو سکتا ہے۔
یہی نہیں ایک سال کی سزا اور 25 ہزار روپے جرمانہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے بدھ کو اسمبلی میں بل پیش کیا۔ یہ بل دھوتی کے ساتھ دیگر روایتی ہندوستانی ملبوسات کے لیے بھی لاگو ہوگا۔
عوامی مقامات پر ملبوسات کے حوالے سے پابندیوں کے خلاف ’دی تمل ناڈو انٹری ان پبلک پلیسیز (رموول آف ریسٹركشن آف ڈریس) ایکٹ 2014 ‘ جمعرات کو اسمبلی میں منظور کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ایک کرکٹ کلب نے دھوتی میں ملبوس مدراس ہائی کورٹ کے ایک جج کو اندر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
اس پر کافی تنازع ہوا تھا اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس کی مذمت کی تھی۔
اس کے بعد وزیر اعلی جے للتا نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا ’دھوتی‘ کو منظوری دینے کے لیے وہ اسمبلی میں بل لائیں گی۔
بل میں کہا گیا ہے، ’تمل ناڈو کی ثقافت کا حصہ دھوتی یا کسی بھی دوسرے ہندوستانی لباس میں ملبوس شخص کو کسی بھی عوامی جگہ میں داخل ہونے سے روکا نہیں جا سکتا، بشرطیکہ کپڑے کو سلیقے سے پہنا گیا ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







