’نریندر مودی وائٹ ہاؤس سے آگے نکل گئے‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ملائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس پر برتری حاصل کر لی ہے اگرچہ ابھی ان کی برتری غیر معمولی نہیں ہے۔
سوشل نیٹ ورک کے سیاسی استعمال کے بارے میں کیے جانے والے ایک جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ نریندر مودی کے اکاؤنٹ Narendramodi@ کے پیروکاروں یا فالوورز کا دائرہ 49 لاکھ 90 ہزار لوگوں تک پھیل چکا ہے جب کہ وائٹ ہاؤں کے اکاؤنٹ WhiteHouse@ کی پیروی کرنے والوں کی تعداد 49 لاکھ 80 ہزار ہے۔
بھارت کے حالیہ انتخابات میں نریندر مودی کی زبردست کامیابی کے اسباب میں سوشل میڈیا پر انتہائی منظم مہم کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔
برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی، بی جے پی کے رہنما ٹوئٹر پر مقبولیت کے لحاظ سے تمام ہندوستانی سیاستدانوں سے آگے ہیں۔
یہ جائزہ عالمی تعلقات عامہ اور ابلاغیات کے ادارے برسون مارسٹیلر نے مرتب کیا ہے اور ان کے سالانہ سفارت کاری کے شعبے کے سربراہ میٹتھیاس لیوفکینز کا کہنا ہے ’مودی میں لوگوں کی دلچسپی بے مثال اور غیر معمولی ہے‘۔
ہر چند کہ مودی بالعموم ہندی بولتے ہیں لیکن ان کے ٹوئٹ ہمیشہ انگریزی میں ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ انگریزی کو 22 قومی سرکاری زبانوں پر ترجیح دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مودی مئی میں منتخب ہوئے اور اس کامیابی پر ان کی طرف سے جاری کیے گئے ان کے اس ٹوئٹ ’انڈیا ہیز ون‘ کا سکور 24000 رہا۔
نریندر مودی نے اپنی نئی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا ’دنیا بھر میں لوگوں سے رابطے اور ان تک بات پہنچانے کے لیے میں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی طاقت پر پختہ یقین رکھتا ہوں‘۔
دنیا بھر کے رہنماؤں میں ٹوئٹر پر سرِفہرست پانچ رہنماؤں کے اکاؤنٹ اور پیروکاروں یا فالوورز کی تعداد کچھ یوں ہے۔ براک اوباماBarackObama@ چالیس لاکھ 30 ہزار، پوپ فرانسس Pontifex@ کی چودہ لاکھ ، انڈونیشیائی صدر سوسیلو بام بانگ یودھویونو SBYudhoyono@ پچاس لاکھ اس کے بعد وائٹ ہاؤس اور پھر نریندر مودی ہیں۔







