مصری عورتیں ’مردوں کو ہراساں کریں گی‘

مصر میں بعض لطیفوں کے مطابق مردوں کو اس لیے ہراساں کیا گیا کہ انھوں نے تنگ پتلونیں پہن رکھی تھیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمصر میں بعض لطیفوں کے مطابق مردوں کو اس لیے ہراساں کیا گیا کہ انھوں نے تنگ پتلونیں پہن رکھی تھیں

مصر میں ٹوئٹر کا ہیش ٹیگ ’ہم مردوں کو ہراساں کریں گے‘ بہت زیادہ ٹرینڈ کر رہا ہے اور اسے اب تک 20 ہزار سے زائد بار ٹویٹ کیا جا چکا ہے۔

ذرا تصور کریں کہ دنیا میں خواتین مردوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنا شروع کر دیں نہ کہ مرد خواتین کو۔ یہی کچھ اس وقت مصر میں کم از کم ٹوئٹر پر ہو رہا ہے اور لوگ دھڑادھڑا اس ہیش ٹیگ کو استعمال کر رہے ہیں۔

ہنتحرش_بالرجال# ہیش ٹیگ کا مطلب ہے: ’ہم مردوں کو ہراساں کریں گے‘ یا ’ہم مردوں کو جنسی طور پر ہراساں کریں گے۔‘

مصر میں جنسی ہراسانی کے واقعات عام ہیں۔ کچھ عرصہ قبل وہاں ایک دہلا دینے والی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک عورت کے کپڑے نوچ کر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس دوران جنسی جارحیت پر ہونے والی بحث میں یہ ہیش ٹیگ ایک عجیب و غریب موڑ لے کر آیا ہے اور بہت سے لوگ اسے ازراہِ مذاق بھی استعمال کر رہے ہیں، اور مرد اور خواتین دونوں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے رویے کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

بعض لطیفوں کے مطابق مردوں کو اس لیے ہراساں کیا گیا کیونکہ انھوں نے تنگ پتلونیں پہن رکھی تھیں۔ ان لطیفوں میں مردوں کو کہا گیا ہے کہ وہ خواتین کی طرح برقع اوڑھ لیں۔

اس ہیش ٹیگ کو مصر میں سب سے پہلے ایک خاتوں نے شروع کیا تھا۔ اس خاتون نے خود کو مصریات کی طالبہ ظاہر کیا تھا۔

یہ ہیش ٹیگ اتوار کی صبح سے لے کر پیر کو تمام دن سرِفہرست رہنے والے ٹرینڈز میں سے ایک رہا۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ مصر میں اس ہیش ٹیگ سے ہر کوئی خوش ہے۔ ایک مرد نے ٹویٹ کیا کہ ’اس غیر اخلاقی ہیش ٹیگ کو بند کیا جائے۔‘

ایک اور شخص نے ٹویٹ کیا: ’یہ خواتین کے حق میں جانبدارانہ اور نفرت انگیز معاشرہ ہے۔‘