اجمل کے خلاف براڈ کی ٹویٹ پر وضاحت طلبی

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے وضاحت طلب کی ہے کہ پاکستانی سپنر سعید اجمل کے خلاف ٹوئٹر پر بیان بازی پر انگلش بولر سٹوئرٹ براڈ کے خلاف کیا انضباطی کارروائی کی گئی ہے۔
انگلینڈ کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کے قانونی ہونے پر سوال کیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ افسر سبحان احمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس سلسلے میں ای سی بی کو ایک خط تحریر کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’ہاں ہم نے ای سی بی سے خط میں پوچھا ہے کہ انھوں نے براڈ کے تبصرے پر ان کے خلاف کس قسم کے اقدامات کیے ہیں۔‘
سبحان احمد نے یہ بھی کہا کہ ’یہ تبصرے سعید اجمل کے لیے پریشان کن ہیں۔ وہ ان پر ناراض ہیں اور چاہتے ہیں کہ ای سی بی ایکشن لے۔‘
سعید اجمل اس وقت انگلش کاؤنٹی سیزن میں حصہ لینے کے لیے انگلینڈ میں ہیں اور حال ہی میں انھوں نے ووسٹرشائر کی طرف سے کھیلتے ہوئے ایسکس کے خلاف میچ میں 13 وکٹیں لی تھیں۔
ان کی اس کارکردگی پر تنازع اس وقت کھڑا ہوا تھا جب سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے ان کی اس میچ میں بولنگ کرتے ہوئے ایک تصویر ٹوئٹر پر شائع کی جس کا عنوان تھا: ’گیند کرتے ہوئے آپ کو پندرہ ڈگری تک بازو موڑنے کی اجازت ہے۔‘
اس پر سٹوئرٹ براڈ نے تبصرہ کیا کہ ’یہ یقیناً ایک جعلی تصویر ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بولرز تجربہ گاہ میں تجزیے کے وقت اس سے بالکل مختلف طریقے سے گیند کر سکتے ہیں جیسی وہ میدان میں وکٹیں لینے کے لیے کرتے ہیں۔‘
براڈ اس وقت زخمی ہونے کی وجہ سے انگلش ٹیم میں شامل نہیں ہیں تاہم اگر ساتھی کرکٹر کے خلاف حقارت آمیز بیان بازی کا الزام ثابت ہو جائے تو سنٹرل کانٹریکٹ کی وجہ سے انگلش کرکٹ بورڈ ان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔
خیال رہے کہ 36 سالہ سعید اجمل کا شمار موجودہ دور کے بہترین سپنرز میں ہوتا ہے۔
ان کے بولنگ ایکشن پر ماضی میں بھی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں اور 2009 میں ان کا ایکشن مشکوک قرار دیا گیا تھا تاہم بعدازاں آئی سی سی نے اسے جائز اور قانونی قرار دیا تھا۔



