بھارت: کہیں مون سون کی تباہی تو کہیں بے رخی

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت کی ریاست آسام میں موسلا دھار بارش کے بعد آنے والے سیلاب سےگذشتہ دو دنوں میں کم سے کم 11 ہو گئے ہیں جبکہ محکمۂ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے دیگر علاقوں میں اس سال جون میں ابھی تک مون سون معمول سے کافی کم رہا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق گذشتہ دو دنوں کے دوران گوہاٹی شہر میں 11 اموات ہوئی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ جمعے کو ایک مکان گرنے سے ایک خاندان کے تین افراد ہلاک جبکہ ایک دوسرے واقعہ میں دلدل میں دھسنے کی وجہ سے ایک شخص کی موت ہوگئی۔ دیگر پانچ افراد بجلی کا کرنٹ لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔
شدید بارش کی وجہ سے برہم پُتر ندی کے پانی کی سطح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
بارش اور سیلاب کی وجہ سے گوہاٹی شہر کے اہم حصوں میں کئی فٹ تک پانی بھر گیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں کھانے کا سامان اور پینے کا پانی پہنچا یا جا رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جمعرات کی رات تقریباً 60 ملی میٹر بارش ہوئی، جس کے بعد سیلاب نے خطرناک شکل اختیار کر لی۔

،تصویر کا ذریعہAP
گوہاٹی میں کام کرنے والی ایک خاتون رانی داس نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ’گوہاٹی کے اہم علاقوں میں اب کشتیاں ہی آنے جانے کا ذریعہ بن گئی ہیں جس کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘
اس پہاڑی ریاست میں کچھ مقامات پر زمین کھسکنے کی بھی اطلاعات بھی ملی ہیں اس درمیان حکام نے شہر میں سکولوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ مان سون کی وجہ سے یہ بارش ہوئی ہے جبکہ ملک کے دوسرے حصوں میں جون کے دوران ابھی تک تقریباً 30 سے 40 فیصد تک کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے بھارت میں جون سے لے کر ستمبر تک مون سون نظام رہتا ہے۔
آسام کے وزیراعلیٰ ترون گوگوئی نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جانے کی کوشش کی لیکن انھیں لوگوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ آسام کے دوسرے حصوں میں بھی سیلاب کی سی صورتحال ہے جبکہ ملک کے دوسرے حصوں میں بارشوں کا انتظار ہے ۔
پانی کی اس قلت کو بھارت کی اقتصادی دارالحکومت کہے جانے والے شہر ممبئی میں صاف طور سے دیکھا جا سکتا ہے۔
جون کا تقریباً پورا مہینہ گزر جانے پر بھی ممبئی بارش کے لیے ترس رہا ہے۔
پانی فراہم کرنے والے محکمے کے مطابق اگر آئندہ ہفتے اچھی بارش نہ ہوئی تو پانی سپلائی میں 10 سے 20 فیصد تک کی کمی کرنی پڑے گی۔







